Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
62 - 691
اے شرابی توآ، آ جُواری توآ
سب سُدھرنے چلیں، قافِلے میں چلو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صدیق اکبر کا اسلام کی دعوت دینے کا انداز
حضرت سیدنا ابن اسحاق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:’’حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اسلام لاتے ہی اس کا اظہاربھی فرمادیانیز اس کی دعوت دینا بھی شروع کردی۔چونکہ آپ اپنی قوم میں نہایت ہی نرم دل، لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہونے والے اورسب کی پسندیدہ شخصیت تھےاورآپ قریش کے حسب ونسب اور ان کی ہر اچھائی برائی سے اچھی طرح واقف تھے، آپ ایک مشہور اورخوش اخلاق تاجر بھی تھے، قریش کےتمام چھوٹے بڑے لوگ علمی و تجارتی خوبیوں نیز پاکیزہ صحبت کے سبب آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اورآپ کی صحبت سے فیض یاب ہوتے تو آپ ان پرانفرادی کوشش کرتے، اسلام کی خوبیاں بیان فرماتے اورانہیں اسلام کی دعوت دیتے۔‘‘اس طرح آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے پاس آنے والوں میں سے کئی معتمد حضرات پر انفرادی کوشش کر کے انہیں بھی اسلام میں  داخل کر لیا۔  (الریاض النضرۃ، ج۱،ص۹۱)
عبادت وریاضت دیکھ کرقبول اسلام
حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ابتدائے اسلام میں اپنے گھر کے صحن میں ایک مسجد بنائی تھی، جہاں وہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے اور نماز پڑھا کرتے تھے، لوگ آپ کے اس روح پرور منظر کودیکھ کر آپ کے آس پاس اکٹھے ہوجاتے، آپ کی تلاوت قرآن، عبادت وریاضت اور خوف خدا میں آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا رونا لوگوں کو بہت متاثر کرتاتھا،آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے اس عمل کے سبب کئی لوگ اسلام میں داخل ہوئے۔ (الریاض النضرۃ، ج۱، ص۹۲)