مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ میں نے کئی بارخودکشی کرنے کی بھی کوشش کی اور اس کی تکمیل کی خاطرڈیٹول،پیٹرول اورتیزاب تک پیالیکن سانسوں کی گنتی ابھی پوری نہ ہوئی تھی اوریقیناًزندگی ابھی میرامقدرتھی یہی وجہ ہے کہ ہر مرتبہ اپنے ارادے میں ناکامی کامنہ دیکھنا پڑا۔خیر!وقت کامرہم آہستہ آہستہ میرے زخموں کو بھرتا رہا، ایک روزیوںہی اپنے دوست کی دکان پربیٹھادل ہی دل میں ربّ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں نئی زندگی کی دعامانگ رہاتھا،رب عَزَّ وَجَلَّ کی بے نیازی پر قربان جائیے کہ اتنی نافرمانیوں کےباوجوداس نے مجھے رُسوانہ کیااورمیری جھولی گوہرمرادسے بھردی، ہواکچھ یوں کہ میری ملاقات دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی سے ہوگئی۔ان کی میٹھی میٹھی باتیں سن کرمیرے دل میں ازسرِنوجینے کی امنگ جاگ اٹھی اوریوں ان کی انفرادی کوشش کی برکت سے ۲۹شعبان المعظم کومجھے دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ آنے کی سعادت حاصل ہوگئی۔یہاںہرسوسبزسبزعمامے والے عاشقانِ رسول کو دیکھ کر میرے سارے غم غلط ہوگئے میں خودکوہلکامحسوس کرنے لگااورہاتھوں ہاتھ۳۰ روزہ اجتماعی اعتکاف میںشریک ہوگیا۔ان اسلامی بھائی کی انفرادی کوشش اور دورانِ اعتکاف امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی محبت کی بدولت مجھ گناہگارکوبھی رمضان المبارک کے روزے رکھنے کی سعادت حاصل ہوئی،مدنی ماحول کی برکت سے میرے سرسے عشقِ مجازی کا بھوت اُترگیا،دل سے برے خیالات کا خاتمہ ہوگیا،سر پر سبز سبز عمامہ شریف، بدن پر سنّت کے مطابق مدنی لباس سجا لیااوراَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ پنج وقتہ نماز کا پابندبن گیااور تادمِ تحریرشیخ طریقت، امیراہلسنت، بانیٔ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ مدنی مقصد کہ ’’مجھے اپنی اور ساری دنیاکے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے‘‘کے جذبے کے تحت مدنی کاموں میں مصروف ہوں۔
چھوڑیں بدمستیاں، اور نشے بازیاں
جامِ الفت پئیں، قافِلے میں چلو