طرف بلانے کا جذبہ نصیب ہوجائے۔ اس مدنی کام یعنی نیکی کی دعوت کو عام کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ علاقائی دورہ برائے نیکی کی دعوت بھی ہے ۔دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں ہفتے میں ایک دن مخصوص کر کے دکانوں ، گھروں وغیرہ پر نیکی کی دعوت پیش کی جاتی ہے ۔بعض اسلامی بھائی ہفتے میں دو بار ،تین بار بھی بلکہ روزانہ بھی اس کی سعادت حاصل کرتے ہیں اورپیارے آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعض عُشَّاق تو جب دیکھا تنہا ہی نیکی کی دعوت کی دھومیں مچاتے رہتے ہیں! آیئے تنہا نیکی کی دعوت دینے یعنی’’انفرادی کوشش‘‘ کرنے کے متعلق ایک ایمان افروز مدنی بہار سنتے چلیں۔ چُنانچہ،
ایک ناکام عاشق کی توبہ
باب المدینہ(کراچی)کے علاقے ملیرکے ایک اسلامی بھائی اپنی زندگی میں آنے والے انقلاب کے بارے میں کچھ یوں تحریرفرماتے ہیں:’’میں اس فانی دنیاکی رنگینیوںمیں کھوکرعشق مجازی میں گرفتار ہو گیا تھا، پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کی یاد بھلائے شام وسحرعشقِ مجازی کی گمراہیوںمیں بسرکررہاتھابظاہرایامِ زندگی بڑے ہی حسین اوررنگین گزررہے تھے۔ایک روزمجھے یہ قیامت خیزخبرملی کہ اس کے گھر والوں نے اس کی شادی کہیں اورکردی ہے۔اس کے بعدمیری زندگی توگویا ماتم کدہ بن کررہ گئی،اس کی یادیں بدن کو درد اور آنکھوں کو رت جگا دے گئیں، ساری ساری رات اسی کی یادمیں جاگ کرگزاردیتا،عشق کے ہاتھوں مجبور ہو کر آخرت کے ساتھ ساتھ،اپنی دنیابھی داؤپرلگانے میں مصروف ہوگیا اور بالآخر میرابھی انجام وہی ہوا جوعشقِ مجازی میں شیطان کے ہاتھوں کھلونابننے والے سینکڑوں ناکام ونامراد عاشقوں کاہواکرتاہے عشق کی آگ بجھانے اور ماضی کی تلخ یادوں کو دل سے بھلانے کی خاطرمیں نے نشے کا سہارا لینا شروع کر دیا۔عشق میں ناکامی کی وجہ سے میرے ہوش وحواس کھوچکے تھے،نشے کی ایسی لت پڑچکی تھی کہ میں چرس، افیون،شراب،ہیروئن،صمدبونڈ،پیٹرول اورنشہ آور انجکشن جیسی مہلک منشیات کاعادی بن گیا۔اپنے فاسدگمان میں قلبی سکون پانے کی خاطر شاید ہی کوئی نشہ ہوجومیں نے نہ کیاہو۔زندگی سے اس قدرمایوس اوربیزارہو چکا تھا کہ