Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
59 - 691
 رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ان پرانفراد ی کوشش فرمائی اورانہیں اسلام کی دعوت پیش کی، اور جب وہ قلبی طورپرمطمئن ہوگئے توانہیں بارگاہ رسالت میں بھیج دیایاانہیں خودلے کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔
ہوئے فاروق و عثمان و علی جب داخلِ بیعت
بنا فخرِ سلاسِل سِلسِلہ صدیقِ اکبر کا
بَیاں ہو کس زَباں سے مرتَبہ صدیقِ اکبر کا
ہے یارِ غار، محبوبِ خدا صدیقِ اکبر کا
سب سے پہلے مبلغ اسلام
دو عالم کے مالِک و مختار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعدسب سے پہلے اسلام کی تبلیغ فرمانے کااعزاز آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہی کو حاصل ہے کیونکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنےسب سے پہلے اسلام قبول فرمایااور جس دن اسلام قبول فرمایااسی دن سےتبلیغ اسلام بھی شروع فرمادی۔  (تاریخ مدینۃ دمشق، ج۳۰،ص۴۹)
کاش !ہم بھی نیکی کی دعوت دینے والے بنیں
سُبْحَانَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ !سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کونیکی کی دعوت کا کس قدر جذبہ تھا کہ دامنِ مصطفےٰ میں پناہ ملتے ہی فوراً دوسروں کو بھی دو عالم کے مالِک و مختار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے دامنِ کرم سے وابستہ کرنے کی دُھن لگ گئی ۔ انہیں کتنا زبردست احساس تھا ، کتنی قَدر تھی اسلام کی ، اے کاش! ہمارے دل میں بھی نیکی کی دعوت کی اہمیت جاگزیں ہو جائے ۔کاش! ہم   بھی اپنے اُن بھولے بھالےاسلامی بھائیوں کوراہِ جنت کی طرف لے کر چلنے کی کوششیں تیز تر کردیں جو گناہوں کی اندھیر ی وادیوں میں بھٹک رہے ہیں۔ اے کاش!ہمیں بھی فِرنگی فیشن کی یلغار میں گھرے ہوئے مسلمانوں کو دو عالم کے مالِک و مختار، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی میٹھی میٹھی سنّتوں کی