Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
58 - 691
 آپ کو اسلام کی نشرواشاعت اور توحید الٰہی کی ترویج کے لیے وقف کردیاتھا،کسی وقت بھی ان کے دل سے اشاعت اسلام کا جذبہ اوجھل نہ ہوتاتھا،وہ چوں کہ ہر طبقے کے لوگوں میں لائق احترام گردانے جاتے تھے اور مکۂ مکرمہ کے تقریبا ہر خاص وعام سے ان کا تعلق تھا اس لیے بلا جھجک ایمان لاتے ہی نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانی شروع کر دیں، اوّلا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے ایسے قریبی تاجر دوستوں کو اسلام کی دعوت دی جوآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہپرمکمل اعتماد کرتے تھے اور آپ کی شخصیت ان کی نظر میں بالکل بے داغ سفید چادر کی مانند تھی۔چنانچہ،
آٹھ افراد کا قبول اسلام
اُمّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے کہ حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جس دن اسلام لائے اسی دن وہ حضرت سیدنا عثمان بن عفان، حضرت سیدنا طلحہ، حضرت سیدنا زبیر اور حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمکے پاس پہنچے اوران پر انفرادی کوشش فرماکراسلام کی دعوت پیش کی اور انہیں بھی داخل اسلام کرلیا، پھر دوسرے دن حضرت سیدنا عثمان بن مظعون ، حضرت سیدناابو عبیدہ بن جراح ، حضرت سیدنا عبدالرحمن بن عوف ،حضرت سیدنا ابو سلمہ اور حضرت سیدنا ارقم بن ابی الارقم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم  پر اسلام پیش کیا توانہوں نے بھی اسلام قبول کرلیا۔		
	(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ،حرف العین المھملۃ،عثمان بن عثمان الثقفی،  ج۴،ص۳۷۷،تاریخ مدینۃ دمشق، ج۳۰، ص۴۹)
ایک اہم وضاحت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ بالا وہ تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جوحضرت سیدناابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ہاتھ پراسلام لائے ان تمام کی سیرت میںان کے قبولیت اسلام کے مخصوص واقعات بھی ملتے ہیں،جنہیں پڑھ کر یہ اشتباہ ہوتا ہے کہ شاید یہ حضرات بذات خود سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں حاضر ہوکرمشرف بہ اسلام ہوئے،دراصل مذکورہ بالا صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان زمانہ جاہلیت میں بھی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے تجارت ومراسم کے حوالے سے دوست تھے اسی وجہ سے اسلام لانے کے بعد سب سے پہلے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق