Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
54 - 691
ایک اور حیرت انگیز بات
آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا بلاچون وچراں اسلام قبول کرنا اگرچہ عجیب بات ہے لیکن اس سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسلام قبول کرنے سے قبل نبیٔ کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ پیش آنے والے کئی واقعات جیسے غار حرا میں سیدنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام کا وحی لے کر حاضر ہونا، غیبی آوازوں کا سننا، حیوانات وجمادات کا آپ صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو سلام کرناوغیرہ پیش آئے کہ جن کو سن کرایک عام آدمی اپنی سوچ کے مطابق انہیں کبھی تسلیم نہ کرے،لیکن آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ایسے واقعات سن کربھی ذرہ بھرشک کا اظہار نہ کیا بلکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تمام باتوں پربغیر کسی تامل کے صحیح ہونے کا یقین کرلیا۔
عظمت ایمان صدیق اکبر 
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا اللہ  تعالٰیپر ایمان نہایت محکم اور عظیم تھا، آپ کو ایمان کی حقیقت کا گہرا اِدراک تھا۔ کلمۂ توحید آپ کے رگ و پے میں سرایت کرگیا تھا، آپ کے دل ودماغ پر ایمان ویقین ہی کی حکمرانی تھی، کلمۂ توحید کے آثار ونتائج آپ کے اعضاء وجوارح پر بھی مرتب ہوئے اور انہی آثار کی روشنی میں آپ نے اپنی حیات مستعار کی۔ آپ اعلی اخلاق سے آراستہ اور گھٹیا اخلاق سے پاک وصاف تھے۔ آپ شریعت الٰہی کو مضبوطی سے تھامنے اور رسولاللہ صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہدایت و رہنمائی کی اقتدا کی بڑی شدید تڑپ رکھتے تھے۔ آپ کا ایمان باللّٰہ  سرگرمی ونشاط، عزم وہمت، جہد مسلسل، عمل پیہم، مجاہدے، جہاد وتربیت، عزت ، ترقی اور عالی مرتبے کا باعث تھا، آپ کے دل میں اللہ  تعالٰی اور رسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عظمت کے بارے میں ایسا ناقابل تسخیر ایمان ویقین تھا کہ صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم بلکہ تمام زمین والوں میں سے کسی کا ایمان آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے ایمان کے ہم پلہ نہیں ۔چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’لَوْ وُزِنَ إِيْمَانُ أَبِيْ بَكْرٍ بِإِيْمَانِ أَهْلِ الْأَرْضِ لَرَجَحَ بِهِم یعنی اگر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا ایمان