Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
53 - 691
اسلام لانے میں کوئی تردد نہ کیا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا دل پہلے ہی ایمان قبول کرنے کی صلاحیت سے پوری طرح معمور تھا۔ صرف دعوت ملنے کی دیر تھی اورجوشمع جلنے کے لیے بیتاب تھی فورا جل اٹھی۔ چنانچہ، 
حضرت سیدنا محمد بن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن حصین تمیمی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ رسولاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’میں نے جس شخص کو بھی اسلام کی دعوت دی اس نے تر دد اورتھوڑا بہت غور و فکر ضرور کیا، مگر ابوبکر صدیق ایسے ہیں کہ جب میں نے انہیں اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے بغیر کسی تردد اور غوروفکر کے فورًا کلمہ پڑھ لیااور اسلام میں داخل ہو گئے۔‘‘	(اسد الغابہ،  عبد اللہ بن عثمان اسلامہ، ج۳،ص۳۱۷، تاریخ مدینہ دمشق،  ج۳۰،ص۴۴)
قبول اسلام میں عدم تردد کی وجہ
واقعی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی یہ بہت ہی عظیم خوبی ہے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اسلام کی دعوت سنتے ہی نہ توکوئی سوال کیا اور نہ ہی اسلام کے بارے میں کوئی بات سمجھنے کی کوشش کی حالانکہ اس وقت جن لوگوں کو اسلام کی دعوت دی جاتی تھی تو اولاً اس میں تردد یا سکوت کرتے اور ثانیا اسلام کے فوائد جاننے کی لازماً کوشش کرتے تھے لیکن آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے کسی قسم کا کوئی تردد، سکوت یاسوال نہ کیابلکہ اِدھر اسلام کی دعوت کانوں میں پڑی اور اُدھر کلمہ شہادت پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے، آپ کے اس بلا تردد اسلام قبول کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئےعلامہ بیہقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں:’’آپ کے بلا تردد قبول اسلام کی وجہ یہ ہے کہ آپ سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اسلام کی دعوت دینے سے قبل ہی تمام دلائل اور شواہد ملاحظہ کرچکے تھے، اس لیے جیسے ہی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو اسلام کی دعوت دی گئی فوراً ہی اسلام قبول فرمالیا۔‘‘
(دلائل النبوۃ للبیھقی،   باب من تقدم اسلامہ، ج۲، ص۱۶۴، تاریخ الخلفاء، ص۲۷)