Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
55 - 691
 تمام زمیں والوں کے ایمان کے ساتھ وزن کیا جائے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا ایمان ان سب کے ایمان سے زیادہ وزنی ہو۔‘‘								  (شعب الایمان ، باب القول فی زیادۃ الایمان، الحدیث:۳۶، ج۱، ص۶۹)
اور اس روایت کی ایک نظیر یہ بھی ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکرہ ثقفی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سے استفسار فرمایا: ’’مَنْ رَاٰی مِنْکُم رُؤْیاً؟ یعنی تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے؟‘‘ ایک صحابی نے عرض کیا:’’جی ہاں یارسولاللہ صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں نے خواب دیکھا کہ آسمان سے ایک میزان نازل ہوا اور اس میں آپ صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اورحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا وزن کیا گیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے وزن میں بھاری رہے۔ پھر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاور سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا وزن کیا گیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا پلڑا وزنی رہا۔ پھر حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاور حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا وزن کیا گیا تو حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے بھاری ثابت ہوئے۔ پھر وہ میزان اٹھالی گئی۔‘‘رسولاللہ صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس خواب سے کبیدہ خاطر ہوئے پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’خِلَافَةُ نُبُوَّةٍ ثُمَّ يُؤْتِی اللّٰهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُیعنی یہ نبوت کی خلافت ہے ، پھر اللہ تعالٰی جسے چاہے گا بادشاہی عطا فرمائے گا۔‘‘  (سنن ابی داود، کتاب السنۃ، باب فی الخلفاء، الحدیث: ۴۶۳۵،ج۴، ص۲۷۵،کشف الخفاء، حرف اللام، الحدیث:۲۱۲۷، ج۲، ص۱۴۹)
صدیق اکبر اور اولیت  قبولِ اسلام 
سیدنا ابوبکرصدیق پہلے ایمان لائے
حضرت سیدنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی ارشادفرماتے ہیں:’’أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ یعنی سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہیں۔‘‘
(سنن الترمذی، کتاب المناقب، مناقب علی بن ابی طالب،الحدیث: ۳۷۵۶،  ج۵،  ص۴۱۱)