Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
52 - 691
 قبل بعثت بھی مومن، بعد بعثت بھی مومن
امام قسطلانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی ارشاد الساری شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں : ’’اِخْتَلَفَ النَّاسُ فِیْ مُرَادِہٖ بِھٰذَا الْکَلَامِ فَقِیْلَ لَمْ یَزَلْ مُؤْمِناً قَبْلَ الْبِعْثَۃِ وَبَعْدَھَا وَھُوْ الصَّحِیْحُ الْمُرْتَضٰی یعنی اس کلام سے اِمام اشعری کی مراد میں لوگوں کا اختلاف ہے ۔ بیان مراد میں ایک قول یہ ہے کہ وہ ہمیشہ مومن رہے ، قبل بعثت بھی، بعد بعثت بھی ۔ یہی قول صحیح وپسندیدہ ہے ۔	
		(ارشاد الساری، کتاب مناقب الانصار،  باب اسلام ابی بکر رضی اللہ عنہ ،ج۸، ص۳۷۰)
آپ سے کوئی حالت کفر ثابت نہیں
اِمام اجل سید ابوالحسن علی بن عبدالکافی تقی الدین سبکی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی  فرماتے ہیں: ’’اَلصَّوَابُ اَنْ یُّقَال انَّ الصِّدِّیْقَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ لَمْ یَثْبُتْ عَنْہُ حَالَۃُ کُفْرٍبِاللہ کَمَا ثَبَتَتْ عَنْ غَیْرِہٖ مِمَّنْ اٰمَنَ  وَ ھُوَ الَّذِیْ سَمِعْنَاہُ مِنْ اَشْیَاخِنَا وَمَنْ یُقْتَدٰی بِہٖ وَھُوَ الصَّوَابُ اِنْ شَاءَ اللہُ تَعَالٰییعنی صحیح یہ کہنا ہے کہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسےمتعلق کوئی حالت کفر ثابت نہ ہوئی جیسا کہ دوسرے ایمان والوں سے متعلق ثابت ہوئی۔ یہی ہم نے اپنے شیوخ اورپیشواؤں سے سنا ہے اوریہی حق ہے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ۔     (ارشاد الساری،  کتاب مناقب الانصار، باب اسلام ابی بکر رضی اللہ عنہ ،ج۸، ص۳۷۰)
محبت الہٰی اور فرمان صدیق اکبر
سیدنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْوَالِی سے منقول ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’مَنْ ذَاقَ خَالِصَ مَحَبَّۃِ اللہِ یُشْغِلُہُ ذٰلِکَ مِنْ طَلَبِ الدُّنْیَا وَاَوْحَشَہُ عَنْ جَمِیْعِ الْبَشَریعنی جس نے خالص محبت الہٰی کا مزہ چکھ لیا وہ اس کو دنیا کی طلب سے متنفر کردے گی اور اس میں رہنے والے تمام انسانوں سے متوحش(یعنی متنفر) کردے گی۔‘‘									(ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء، ج۳، ص۸۰)