Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
51 - 691
 ’’اِنِّیْ عَارٍفَاکْسِنِیْ میں ننگاہوں مجھے کپڑا پہنا۔‘‘ وہ کچھ نہ بولا ۔ صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ایک پتھر ہاتھ میں لے کرفرمایا: ’’میں تجھ پر پتھر ڈالتا (مارتا) ہوں۔فِاِنْ کُنْتَ اِلٰھاً فَامْنَعْ نَفْسَکَ اگر توخدا ہے تو اپنے آ پ کو بچا ۔‘‘ وہ اب بھی نرابت بنارہا۔ آخر بقوت صدیقی پتھر پھینکا کہ وہ خدائے گمراہاں منہ کے بل گرا۔ والد ماجد واپس آتے تھے یہ ماجرا دیکھا تو کہا: ’’اے میرے بچے !یہ کیا کیا؟‘‘ فرمایا:’’ وہی جوآپ دیکھ رہے ہیں؟‘‘ وہ انہیں ان کی والدہ ماجدہ حضرت سیدتنا اُمّ الخیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکے پاس کہ وہ صحابیہ ہوئیں لے کر آئے اور ساراواقعہ ان سے بیان کیا انہوں نے فرمایا :’’ اس بچے سے کچھ نہ کہو ، جس رات یہ پیدا ہوئے میرے پاس کوئی نہ تھا ، میں نے سنا کہ ہاتف (یعنی غیب سے کوئی) کہہ رہا ہے :’’یَا اَمَۃَ اللہِ عَلَی التَّحْقِیْق! اِبْشِرِیْ بِالْوَلَدِ الْعَتِیْق اِسْمُہٗ فِی السَّمَاءِ الصِّدِّیْق لِمُحَمَّدٍ صَاحِبٌ وَرَفِیْقٌ یعنی اے اللہ کی سچی باندی! تجھے خوشخبری ہو اس آزاد بچے کی، اس کا نام آسمانوں میں صدیق ہے محمد صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یار ورفیق ہے ۔ (ارشاد الساری، کتاب مناقب الانصار،  باب اسلام ابی بکر، ج۸، ص ۳۷۰ تا ۳۷۱، مرقاۃ المفاتیح، مناقب ابی بکر، تحت الحدیث:۶۰۳۴، ج۱۰، ص۳۸۵)
صدیق اکبر ہمیشہرسولاللہ کی خوشنودی میں رہے
سولہ برس کی عمر میں حضور پرنورسید عالم صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قدم پکڑے کہ عمر بھرنہ چھوڑے ، اب بھی پہلوئے اقدس میں آرام کرتے ہیں، روزِ قیامت دست بدست حضور (ہاتھ میں ہاتھ ڈالے)اٹھیں گے ، سایہ کی طرح ساتھ ساتھ داخل خلد بریں ہوں گے۔جب حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممبعوث ہوئے فورًا بے تامل (بغیر غوروفکر کے)ایمان لائے ، ولہٰذا سید نا امام  ابوالحسن اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :’’لَمْ یَزَلْ اَبُوْبَکْرٍبِعَیْنِ الرِّضَا مِنْہُ یعنی حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہہمیشہ سرکار اقدس صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خوشنودی میں رہے۔	 (فتاوی رضویہ،  ج۲۸، ص ۴۵۷)