توحید میں سب سے بلند کلام، فرمانِ صدیق اکبر
امام الصوفیاء حضرت سیدنا شیخ جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْہَادِی فرماتے ہیں:’’توحید میں سب سے بلند کلام امیرالمؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ فرمان ہے :’’سُبْحَانَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلْ لِّخَلْقِہٖ سَبِیْلًا اِلَّا بِالْعِجْزِ عَنْ مَعْرِفَتِہٖ یعنی پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی مخلوق کے لیے اپنی معرفت کی سوائے عاجز ہونے کے کوئی راہ نہیں بنائی۔‘‘
(ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء، ج۳، ص۷۹)
صدیق اکبر اور وحدانیت الہٰی بزبان اعلی حضرت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی وحدانیت الٰہی سے معمور حیات طیبہ پر مشتمل ’’فتاوی رضویہ‘‘جلد ۲۸، صفحہ ۴۵۶سے ایک جامع فتوی بتصرف پیش خدمت ہے۔چنانچہ اعلی حضرت عظیم البرکت مجدددین وملت حضرت علامہ مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں: ’’بحمداللہ تعالٰی یہی فضل اجل واجمل ، بلکہ اس سے بھی اعلی واکمل ، نصیب حضرت امیر المومنین ، امام المشاہدین، افضل الاولیاء المحمدیین، سیدنا و مولانا صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہہے ۔ چندبرس کی عمر شریف ہوئی کہ پَرتَوشانِ خلیلاللہ بت خانہ میں بت شکنی فرمائی۔ (یعنی حضرت سیدنا ابراہیم خلیلاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جس طرح بت شکنی فرمائی تھی ویسے ہی انہوں نے بھی بت شکنی فرمائی)ان کے والد ماجد حضرت سیدنا ابو قحافہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکہ وہ بھی صحابی ہوئے اس زمانۂ جاہلیت میں انہیں بت خانے لے گئے اور بتوں کو دکھا کر کہا:’’ھٰذِہٖ اٰلِھَتُکَ الشَّمُّ الْعُلٰی فَاسْجُدْلَھَایعنی یہ تمہارے بلند وبالا خدا ہیں انہیں سجدہ کرو۔ وہ تو یہ کہہ کرباہر گئے ، سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ قضائے مبرم کی طرح بت کے سامنے تشریف لائے اور براہ اظہار عجز صنم وجہل صنم پرست(یعنی بتوں کی لاچاری اور بت پرستوں کی جہالت کو ظاہر کرنے کے لیے) ارشادفرمایا :’’اِنِّیْ جَائِعٌ فَاَطْعِمْنِیْمیں بھوکا ہوں مجھے کھانا دے۔‘‘ وہ کچھ نہ بولا۔ فرمایا: