وماہ کم وبیش ضرور تھی لیکن سال وفات یہی تھا ۔ (ملفوظات اعلی حضرت، ص۶۰)
صدیق اکبر اور وحدانیت الہی
صدیق اکبرہمیشہ سے مسلمان تھے
اعلی حضرت، امام اہلسنت، مجدددین وملت حضرت علامہ مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن ارشاد فرماتے ہیں: ’’حضرت امیر المومنین، مولی المسلمین، امام الواصلین ، سیدناعلی المرتضی مشکل کشا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اورحضرت امیر المومنین، امام المشاہدین، افضل الاولیاء المحمدیین، سیدنا ومولانا صدیق اکبر ،عتیق اطہر عَلَیْہِ الرِّضْوَانُ الْاَجَلُّ الْاَظْھَر دونوں حضرات عالمِ ذُریت سے روزِ ولادت،روزِولادت سے سن تمیز، سن تمیزسے ہنگام ظہورپرنورآفتاب بعثت، ظہوربعثت سے وقت وفات، وقت وفات سے اَبَدُالْآبَاد تک بِحَمْدِاللہِ تَعَالٰیموحد موقن ومسلم ومومن وطیب وزکی وطاہر ونقی تھے اورہیں اوررہیں گے،کبھی کسی وقت کسی حال میں ایک لحظہ ایک آن کو لوثِ (گندگیٔ)کفروشرک وانکار اُن کے پاک، مبارک ، ستھرے دامنوں تک اصلاً نہ پہنچا ،نہ پہنچے۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن۔(اورسب تعریفیں اللہ تعالٰیکے لئے ہیں جو پروردگار ہے تمام جہانوں کا)عالم ذریت سے روزِ ولادت تک اسلام میثاقی تھا کہا: ’’اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ، قَالُوْا بَلٰی کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔روز ولادت سے سن تمیز تک اسلام فطری کہ کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ ہر بچہ فطرت اسلام پر پیداہوتاہے ۔‘‘
(صحیح البخاری، کتاب الجنائز، باب ماقیل فی اولادالمشرکین ،الحدیث: ۱۳۸۵، ج۱، ص۴۶۶)
کبھی بت کو سجدہ نہ کیا
(سیدنا صدیق اکبر) نےسن تمیزسے روز بعثت تک اسلام توحیدی کہ ان حضرات والاصفات نے زمانہ فترت میں بھی کبھی بت کو سجدہ نہ کیا، کبھی غیر خدا کو خدا نہ قراردیا ہمیشہ ایک ہی جانا،ایک ہی مانا ، ایک ہی کہا ، ایک ہی سے کام