دیکھا،جو’’بحیرا ‘‘نامی راہب کوسنایا۔اس نے آپ سے پوچھا:’’ تم کہاں سے آئے ہو؟‘‘ فرمایا:’’مکہ سے۔‘‘اس نے پھرپوچھا:’’کون سے قبیلے سے تعلق رکھتے ہو؟‘‘ فرمایا:’’قریش سے۔‘‘پوچھا:’’کیا کرتے ہو؟‘‘فرمایا:تاجر ہوں۔‘‘وہ راہب کہنے لگا:’’ اگر اللہ تعالٰینےتمہارے خواب کوسچافرمادیاتووہ تمہاری قوم میں ہی ایک نبی مبعوث فرمائے گا،اس کی حیات میں تم اس کے وزیر ہوگے اور وصال کے بعد اس کے جانشین۔‘‘ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اس واقعے کو پوشیدہ رکھا ،کسی کو نہ بتایا۔اور جب سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نبوت کا اعلان فرمایا، تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےیہی واقعہ بطور دلیل آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے پیش کیا۔یہ سنتے ہی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے حضور نبیٔ کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو گلے لگالیا اور پیشانی چومتے ہوئے کہا:’’میں گواہی دیتا ہوں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سچے رسول ہیں۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ’’اس دن میرے اسلام لانے پر مکہ مکرمہ میں سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے زیادہ کوئی خوش نہ تھا ۔‘‘ (الریاض النضرہ،ج۱،ص۸۳)
(2)آپ کا خواب
ایک بار آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے خواب دیکھا کہ ایک چاند مکۂ مکرمہ پر نازل ہوکر مختلف اجزاء میں تقسیم ہوگیااور اس کا ایک ایک ٹکڑا ہر گھر میں داخل ہوگیا اور پھر وہ تمام اجزاء مل کر پورا چاند بن کر ان کی گودمیں آگیا۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ایک راہب سے اس کی تعبیر پوچھی تواس نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو نبیٔ کریم رؤف رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ظہور اور ان کے اتباع کی خوشخبری دی۔ (الروض الانف، اسلام ابی بکر،ج۱، ص۴۳۱ مختصرا)
(3) صدیق اکبر اوردرخت کی پراسرار آواز
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہخود ارشاد فرماتے ہیں:’’ایام جاہلیت میں ایک دن میں ایک درخت