Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
45 - 691
جان ومال لٹانے کے محض نعرے لگاتے ہیں، ظاہری حالت دیکھ کر ایسا لگتا ہے گویا اِن کے نزدیک دُنیا کی قَدر (عزّت) اس قدر بڑھ گئی ہے کہ مَعَاذَ اللہ      اسلامی اَقدار کی کوئی پرواہ نہیں رہی،نبیٔ رحمت، غمگسارِاُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی آنکھوں کی ٹھنڈ ک (یعنی نماز)کی پابندی کا کچھ لحاظ نہیں، غیروں کی نقّالی میں اِس قدرمحویت کہ اتباع سنّت کا بالکل خیال نہیں۔اللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہمیں عاشقِ اکبر حضرتِ سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے صدقے ولولۂ عشق ومحبت اور جذبۂ اتباعِ سنّت عنایت فرمائے۔						 اٰمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
تو انگریزی فیشن سے ہر دم بچا کر
مجھے سنّتوں پر چلا یا الٰہی!
غمِ مصطفی دے غمِ مصطفی دے
ہو دردِ مدینہ عطا یا الہٰی!
محبت میں اپنی گما یا الہٰی!
نہ پاؤں میں اپنا پتا یا الہٰی!
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صدیق اکبر کا قبول اسلام
حضرتِ سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے قبول اسلام کے مختلف واقعات مختلف کتب میں مذکور ہیں۔چند واقعات پیش خدمت ہیں۔
(1)بحیرا راہب سے ملاقات
حضرت سیدناربیعہ بن کعب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:’’حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا اسلام آسمانی وحی کی مانند تھا، وہ اس طرح کہ آپ ملک ِ شام تجارت کے لیے گئے ہوئےتھے، وہاں آپ نے ایک خواب