Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
44 - 691
تینوں آرزوئیں بر آئیں
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرتِ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی یہ تینوں خواہشیںحُب رسولِ انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدقے پوری فرما دیں (۱) آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو سفروحضر میں رفاقت حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نصیب رہی،یہاں تک کہ غارثور کی تنہائی میں آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے سوا کوئی اور زِیارت سے مشرف ہونے والا نہ تھا (۲) اسی طرح مالی قربانی کی سعادت اِس کثرت سے نصیب ہوئی کہ اپنا سارا مال وسامان سرکارِ دو جہاںصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قدموں پرقربان کر دیا اور(۳)مزارپرانوارمیں بھی اپنی دائمی رفاقت وقُربت عنایت فرمائی۔
محمد ہے متاعِ عالمِ اِیجاد سے پیارا
پِدر مادر سے مال و جان سے اولاد سے پیارا
کاش! ہمارے اندر بھی جذبہ پیدا ہو جائے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عاشق اکبررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے عشق ومحبت بھرے واقعات ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ راہ عشق میں عاشق اپنی ذات کی پرواہ نہیں کرتابلکہ اس کی دلی تمنّایہی ہوتی ہے کہ رضائے محبوب کی خاطر اپنا سب کچھ لٹادے۔کاش!ہمارے اندر بھی ایسا جذبۂ صادقہ پیدا ہوجائے کہ خدا و مصطفےٰ عَزَّ وَجَلَّ وَصَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضا کی خاطراپنا سب کچھ قربان کر دیں۔
جان دی، دی ہوئی اُسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
محبت کے کھوکھلے دعوے
افسوس! صد کروڑ افسوس! اب مسلمانوں کی اکثریت کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ عشق و محبت کے کھوکھلے دعوے اور