Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
443 - 691
سے بھی عجیب تر بات یہ تھی کہ حالات بھی بالکل نئے قالب میں ڈھل رہے تھے، پھر جن لوگوں سے سلسلہ جنگ شروع تھا، ایک تو ان کی تہذیب سے ناآشنائی، نہ ان کا ثقافت سے کوئی علاقہ، نہ ان کی تمدن سے واقفیت اور نہ ہی ان کی زبان سے شناسائی تھی کہ ان کے تمام اموربالکل نئے اور عربوں کی معاشرت سے قطعی مختلف ومتضاد تھے۔ان حالات میں ملک کے انتظامی معاملات کو چلانا اوران کو صحیح رخ پر رکھنا صرف حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجیسے زیرک وفہیم شخص کا کام ہی ہوسکتا تھا۔ یہ کام انہوں نے جتنی تھوڑی مدت میں سرانجام دیا کوئی بڑے سے بڑا شخص اس سے کہیں زیادہ مدت میں بھی سرانجام نہیں دے سکتا تھا۔اس کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پورے تئیس سال رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ساتھ رہے،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وہ قربتیں نصیب ہوئیں جو کسی اور کو نصیب نہ ہوئیں۔ نبیٔ کریم ،رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ان کی صحبت رفاقت کا زمانہ ، عہد خلافت کے کارناموں سے کہیں زیادہ باعث برکت واہم ہے۔ خلافت کا تاج زریں بھی تو اسی رفاقت کی بنا پر آپ کے سرمبارک پر سجایا گیا تھا اور یہی وہ سوا دو سال کا مختصر ترین زمانہ تھا، جس میں اس تئیس سالہ رفاقت کے ثمرات کا ظہور ہوااور جس نے دنیا کی تاریخ کا رخ بالکل بدل دیا اور مسلمانوں کی ڈگمگاتی سواری کو لازوال ارتقاءکی ایک ایسی شاہراہ پر گامزن کردیاجس کو غیروں نے بھی معیار بنایا۔
آپ کی ذات بہت بڑا معجزہ
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا دورِ حکومت بہت ہی قلیل مدت رہا ہے لیکن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے اس دور حکومت میں انتخاب خلیفہ سے لے کر مختلف فتنوں کی سرکوبی، فتوحات شام وعراق ، جمع قرآن وغیرہ بڑے بڑے معاملات کو جس خوش اسلوبی سے سرانجام دیا اس سے یہی ظاہر ہوتاہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی ذات مبارکہ خود پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ایک بہت بڑا معجزہ تھی۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی حیات طیبہ کے جس پہلو پر بھی