Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
444 - 691
نظر ڈالتے ہیں علم وحکمت کے بے شمار انمول مدنی پھول چننے کو ملتے ہیں، آپ ہی کے عہد میں اسلامی فوجی قوت میں بے حد اضافہ ہوا، اسلامی تہذیب کی نشو ونما ہوئی اورکتاب وسنت کی ترویج واشاعت کے دائرے وسیع سے وسیع تر ہوئے۔ آپ کی حیات طیبہ کے یہ وہ عظیم کارنامے ہیں جن سے غیروں کے علاوہ خود مسلمان بھی انتہائی متعجب تھے ، جو کام سالوں میں ہونا مشکل تھا وہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سعی مسلسل اور تدبیر ودانش مندی سے چند مہینوں میں تکمیل کی منزل کو پہنچ گیا۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی سیرت کے ان ہی پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے دل بے ساختہ یہ پکار اٹھتا ہے کہ ایسی پیاری ہستی جو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا خلیفہ ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی محسن بھی ہو ، اپنے تو اپنے، غیر بھی جس کے اوصاف کی گواہی دیتے ہوں، ایسی ہستی کے وجود سے دنیا قیامت تک مستفیض ہوتی رہے۔مگر آہ! مشیت الٰہی ہی کچھ ایسی ہے کہ ’’کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ ‘‘یعنی ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔یقیناً کائنات کو جس ہستی کی ضرورت ہے وہ نبیٔ کریم رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہی کی ہے لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی دنیاسے وعدۂ الٰہی کے مطابق تشریف لے گئےاور آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہآپ کے خلیفہ مقرر ہوئے ان کوبھی اس دنیاسے رخصت ہونا ہی تھا۔معرکۂ اَجنادین جب وقوع پذیرہورہا تھا اس وقت آپ مرض الموت میں مبتلا ہوئے اوراس معرکے کی فتح کی خوشخبری جب قاصد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں لایا اس وقت آپ پر نزع کی کیفیت طاری تھی۔ بالآخر آخری وصایا اور اپنے بعد مسلمانوں کے خلیفہ کی نامزدگی کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبھی ۲۲جمادی الاخری۱۳ ہجری بمطابق ۲۲اگست ۶۳۴عیسوی اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔  (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ)
بیاں ہوں کس زبان سے مرتبہ صدیق اکبر کا
ہے یارغار، محبوب خدا صدیق اکبر کا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد