Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
442 - 691
میں پروردگار عالم کے حضور دعا کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھادیے اوریوں دعا کی:’’اے میرے پروردگار! میں نے ان لوگوں سے ان کی بہتری اوراصلاح کا ارادہ کیا ہے۔ اے میرے مالک! میں نے جب ان پر فتنہ وآزمائش کے سایہ فگن ہونے کا خوف کھایا تو ان میں یہی تدبیر قائم کرنے کی سعی جمیل کی جسے تو اوروں کی بہ نسبت بخوبی جاننے والا ہے۔ اے میری جان کے مالک! میں نے ان کے لیے اجتہاد رائے کیا اور اپنی دانست کے مطابق ان پر انہیں میں سے بہتر، قوی اور نیکی پر حریص شخصیت کو نگران بنایا ہے۔ اے میری زیست(زندگی) کے مالک! تیرا امر یقینی میرے پاس آچکا۔ لہٰذا تو ان کے درمیان میرا جانشین مقرر فرمادے۔ یہ تیرے ہی تو بندے ہیں۔ ان کی پیشانیاں تیرے دست قدرت میں ہیں۔ اے اللہ رب العزت! ان کے حکمرانوں کی اصلاح فرما۔ اے رب العالمین! میرے وفا شعار دوست حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنے خلفاء راشدین میں سے بنا اور آپ کی خاطر آپ کی رعیت کو درست فرما۔ ‘‘آمین   (تاریخ مدینۃ دمشق، ج۳۰، ص۴۱۱تا ۴۱۲)
فراستِ صدیق اکبر
حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے فرماتے ہیں کہ :’’أَفْرَسُ النَّاسِ ثَلاَثَةٌ یعنی تین شخصیات پختہ رائے اور فراست کے مالک ہیں۔ ان میں سے ایک حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہیں کہ آپ نے حضرت سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنی فراست کے ذریعے خلیفہ مقرر فرمایا۔
(مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب المغازی، ما جاء فی خلافۃ عمر، الحدیث: ۳،  ج۸، ۵۷۵)
کامیاب اورمؤثر انتظامی ڈھانچہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کاایک طرف عراق اور شام کے محاذ پر فوجیں بھیجناتو دوسری طرف مال غنیمت کی تقسیم، بیت المال کی تنظیم، عُمَّال حکومت کے تقرر اور وسیع علاقے تک پھیلی ہوئی سلطنت کے انتظامی امور میں انہماک۔ بالکل نئی سلطنت میں یہ تمام ہمہ وقتی کام اور ہر آن مصروفیت کے طالب تھےاوراس