Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
441 - 691
معاف کردیئے۔ جب میں انہیں یاد کرتا ہوںتو(خوف خدا کے سبب) جنتی نہ ہونے سے ڈرتاہوںاور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جہنمیوں کا ذکر کیا تو نہایت برے اعمال کے ساتھ کیااور ان کے بہتر کاموں کا بدلہ انہیں دنیا میں ہی دے دیا۔ جب میں انہیں یاد کرتا ہوں تو(رحمت الہی کے سبب)جہنمی نہ ہونے کی امید کرتاہوں۔ اس لیے بندے کو خوف اور امید کے درمیان رہنا چاہیےاس طرح کہ نہ رحمت پر کلی تو کل کرے (کہ بالکل نیکیاں کرناہی چھوڑدے)اور نہ ہی رحمت سے مایوس ہو(کہ لوازمات دنیاسے بالکل کنارہ کشی اختیار کرلے)۔ اے عمر ! اگر تم نے میری وصیت یاد رکھی تو موت سے زیادہ کوئی چیز تمہیں محبوب نہ ہوگی۔ مگر اسے کوئی اپنے اختیار میں نہیں لاسکتا۔‘‘    (معر فۃ الصحابۃ  ،معرفۃ نسبۃ الصدیق ،  ج۱، ص۵۹، حلیۃ الاولیاء، ابوبکر الصدیق، الحدیث: ۸۳، ج۱، ص۷۱)
امید وخوف کےدرمیان رہو
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا: ’’ اگر آ پ نے میری وصیت یاد نہ رکھی تو کوئی چیز آپ کو موت سے زیادہ بُری نظر نہ آئے گی۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے نرمی کے ساتھ سختی بھی رکھ دی ہے تاکہ مومن امید اور خوف کے مابین رہے۔ میں جب اہل جنت کا ذکر کرتا ہوں تو خوف خداوندی کے سبب یہ خیال آتا ہے کہ میں ان میں سے نہیں ہوں اور اہل جہنم کا تذکرہ کرکے رحمت الٰہی کے سبب یہی تصور کرتا ہوں کہ میں ان میں سے بھی نہیں ہوں۔ اس لیے کہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اہل جنت کا نہایت بہتر صفات کے ساتھ اور اہل جہنم کا بے حد بُرے اعمال کے ساتھ تذکرہ فرمایا ہے۔ جنتیوں کے کچھ گناہ بھی تھے جو  اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مٹا دیئے اور جہنمیوں کے پاس نیکیاں بھی تھیں جو ضائع ہوگئیں۔‘‘							(تاریخ مدینۃ دمشق ،عبداللہ ویقال عتیق بن عثمان ،ج۳۰،ص ۴۱۴)
سیدنا عمر فاروق اعظم کے حق میں دعا
حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو وصیتیں فرمانےکے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عالم تنہائی