انسان بھی سچی بات کہہ دیتا ہے۔ میں نے اپنے بعد عمر بن خطاب کو تم پر امیربنایا ہے۔تم پر لازم ہے کہ اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو! میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم، دین اسلام ، اپنی اور تمہاری ذات کے بارے میں کبھی کوئی کوتاہی نہیںکی۔ اگر عمر نے عدل کیا اور یہی مجھے امید ہے۔ تو ہر آدمی کو اپنے نیک اعمال کی جزا ملتی ہے اور اگر ناانصافی کی تو ہر کسی کو گناہ کی سزا ملتی ہے۔ تاہم میں نے اپنی طرف سے بہتر کام کردیا ہے۔مجھے ذاتی طور پرعلم غیب حاصل نہیںاور ظالموں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس انجام کو پہنچتے ہیں۔ وَالسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ ۔‘‘ (مصنف عبد الرزاق،کتاب المغازی، استخلاف ابی بکر عمر،الحدیث: ۹۸۲۷، ج ۵،ص ۳۱۱، تاریخ مدینۃ دمشق ،عبد اللہ ویقال عتیق بن عثمان ، ج۳۰، ص ۴۱۱)
پھر اس حکم نامے کو حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہلے کر باہر تشریف لے آئے۔ تمام لوگوں نے بیعت کی اور اس پر رضا ورغبت کا اظہار کیا۔ بعد ازاں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بلا کر نصیحتوں کے مدنی پھول ارشاد فرمائے۔
سیدنا عمرفاروق اعظم کونصیحت
حضرت سیدنا عبدالرحمن بن عبداللہبن سابط رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا وقت وصال آیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا عمرفاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بلایا اور ارشاد فرمایا: ’’اے عمر! اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرتے رہا کرو اوریا درکھو !اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کام جو دن میں ہونے والے ہیں رات تک پیچھے نہیں کیے جاتے اور رات والے کام دن پر نہیں چھوڑے جاتے۔ نوافل تب ہی قبول ہوتے ہیں جب فرائض ادا کردیئے جائیں۔ روزِ قیامت اسی شخص کی نیکیاں بھاری ہوں گی جو دنیا میں حق کی اتباع کرتا تھا۔ ایسے شخص کیلئے میزان عدل کا حق ہے کہ بھاری ثابت ہواورجو حق سے عدول کرتا رہا اس کی نیکیاں ہلکی ہوںگی اور ایسے شخص کے لیے میزان کا حق ہے کہ ہلکا ثابت ہو۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اہل جنت کا ذکر کیا تو نہایت اعلیٰ صفات کے ساتھ کیا اور ان کے گناہ