’’اَللّٰھُمَّ اَعْلَمُہُ الْخَیْرَ بَعْدَکَ، یَرْضٰی للِرِّضَا وَیَسْخَطُ لِلسَّخَطِ الَّذِیْ یُسِرُّ خَیْرٌ مِّنَ الَّذِیْ یُعْلِنُ، وَلَنْ یَلِیَ ھٰذَاالْاَمْرَ اَحَدٌ اَقْوَی عَلَیْہِ مِنْہُ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّبہتر جانتاہے ، میں آپ کے بعدانہیں سراپا خیر سمجھتا ہوں، وہ تو اچھے کام پر راضی اور برے کام پر ناراض ہوتے ہیں، جووہ چھپا کر رکھتے ہیں، اس کی بانسبت کہیں بہترہے جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ حضرت سیدنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بانسبت کوئی بھی امر خلافت پر زیادہ مضبوط اور قوت والا ہرگز نظر نہیں آئے گا۔‘‘
(کنزالعمال، کتاب الامارۃ والخلافۃ، خلافۃ امیر المؤمنین عمر۔۔۔الخ، الحدیث: ۱۴۱۷۱، ج۳،الجزء:۵، ص۲۶۹)
پروانۂ خلافت بنام سیدناعمر فاروق اعظم
حضرت سیدنا محمد بن سعد عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْاَحَد بیان کرتےہیں صحابہ کا ایک قافلہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس اس وقت آیا جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو اپنا جانشین بنانے کا تہیہ کرلیا تھا۔ چنانچہ کچھ افراد نے لب کشائی کرتے ہوئے آ پ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے عرض کیا: ’’ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو جانشین بنانے کے بارے میں سوال کیا تو آپ کیا جواب دیں گے؟‘‘ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا: ’’مجھے بٹھاؤ۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو بٹھایا گیا۔ ارشاد فرمایا:’’مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں حاضری سے ڈرا رہے ہو؟ وہ شخص ہلاک ہوا جس نے تم لوگوںکی حکومت حاصل کرکے ظلم کی پونجی کمائی۔ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں یہ عرض کروں گا: اے اللہ ! میں تیری زمین پر آباد ساری مخلوق سے بہتر شخص کو اپنا خلیفہ بنا کر آیا ہوں۔ میری یہ بات دوسرے لوگوں تک پہنچادو۔‘‘ یہ کہہ کر آپ پھر لیٹ گئے۔ پھر حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لائے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان سے حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی جانشینی کا پروانہ درج ذیل الفاظ میں املا کروایا:
’’اللہکے نام سے شروع جو بہت مہربان نہایت رحم والا!یہ وہ بات ہے جو ابوبکر نے دنیا سے جاتے ہوئے اور عالمِ آخرت میں قدم رکھتے ہوئے کہی تھی۔ ایسے پر خطر وقت میں کافرکلمہ پڑھ لیا کرتا ہے، بدکردار آدمی توبہ کرلیتا ہے اور جھوٹا