Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
43 - 691
 اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ میری لخت جگر ہے ، آپ کا کچھ غم یہ دفع کردے گی کہ ان میں حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبری کی خصلتیں موجود ہیں۔‘‘  (سیرت سید  الانبیاء، ص۱۱۹، ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء، ج۳، ص۴۲)
تین چیزیں پسند ہیں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!رسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے مابین جودوستی اور محبت کارشتہ قائم تھا یقیناوہ کسی غرض کے سبب نہیں تھابلکہ صرف اورصرف لِلّٰھِیَّت والا رشتہ تھا،خود جناب صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبھی اس عظیم رشتے کونہایت ہی محبت سے بیان کیا کرتےتھے۔ چنانچہ دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ۶۴صفحات پر مشتمل رسالے ’’عاشق اکبر‘‘صفحہ۱۴پر شیخ طریقت امیر اہلسنت بانیٔ دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّارقادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ ارشادفرماتے ہیں:
مُشیرِ رسولِ انور،عاشقِ شہنشاہ بحرو بر حضر تِ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں،مجھے تین چیزیں پسند ہیں:’’اَلنَّظْرُ اِلَیْکَ وَاِنْفَاقُ مَالِیْ عَلَیْکَ وَالْجُلُوْسُ بَیْنَ یَدَیْکَ یعنی (۱)آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے چہرۂ پُرانوار کا دیدارکرتے رہنا(۲) آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  پر اپنامال خرچ کرنا اور(۳) آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بارگاہ میں حاضِر رہنا۔
							(تفسیر روح البیان ،پ۱۹، النمل: ۶۲، ج۶، ص۳۶۲)
مرے تو آپ ہی سب کچھ ہیں رحمتِ عالَم
میں جی رہا ہوں زمانے میں آپ ہی کے لئے
تمہاری یاد کو کیسے نہ زندَگی سمجھوں
یہی تو ایک سہارا ہے زندَگی کے لئے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد