Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
437 - 691
(شعب الایمان للبیھقی، باب فی الزھد وقصر الامل، فصل فیما بلغنا عن الصحابۃ۔۔۔الخ،  الحدیث: ۱۰۵۹۴، ج۷، ص۳۶۴، المستدرک علی الصحیحین،  کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ الانبیاء، الحدیث: ۳۴۹۹،  ج۳،  ص۱۴۰)
(5)کہاں ہیں حسین چہروں والے؟
حضرت سیدنا ابویحییٰ بن کثیر عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْکَبِیْرسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ خطبہ دیتے ہوئے ارشادفرمایاکرتے تھے: ’’کہاں ہیں وہ خوب صورت حسین چہروں والے جو اپنی جوانی سے لوگوں کو حیران کردیاکرتے تھے؟کہاں ہیں وہ بادشاہ جنہوں نے شہر تعمیر کرائے اور قلعے بنائے؟ کہاں ہیں وہ جنہیں میدان جنگ میں فتح عطاکی جاتی تھی؟ہاں ان کے اعضاء ریزہ ریزہ ہوچکے ہیں حتی کہ زمانے نے انہیں بے نام ونشان بنادیاہے اب تو قبروں کے اندھیروں میں پڑے ہیں ۔اے لوگو!جلدی کرو جلدی کرو، نجات کی طرف بڑھو نجات کی طرف بڑھو۔‘‘    (حلیۃ الاولیاء، ابوبکر الصدیق،الحدیث: ۷۹،  ج۱،ص۶۹)
(6)زمین پر رحمت الہی کا سایہ
ایک دفعہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کےسرور، دو جہاں کے تاجور، سلطان بحرو بر صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوارشاد فرماتے ہوئے سنا: ’’عدل وانصاف اورعاجزی کرنے والابادشاہ زمین پر   اللہ عَزَّ وَجَلَّ (کی رحمت )کاسایہ اور اس کانیزہ ہے پس جس نے بادشاہ کواپنے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندوں کے متعلق نصیحت کی(یعنی فائدہ مندبات بتائی) اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کا حشر اپنے سایہ رحمت میں فرمائے گاجس دن اس کے سایہ رحمت کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگااور جس نے بادشاہ کواپنے اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندوں کے بارے میں دھوکا دیا   اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کو قیامت کے دن رسوا کرے گا ۔ ‘‘     (فضیلۃ العاد لین لابی نعیم اصبھانی،الحدیث۱۵،ص ۱۶)
وصیتِ خلافتِ عُمر فاروق اعظم
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال ظاہری کے بعد صدیق اکبر رَضِیَ