(2)آسانیوں والے دروازے کا کشادہ ہونا
حضرت سیدنا محمد ابراہیم بن حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے!اگرتم تقوی وپرہیز گاری اختیار کرو توکوئی بعید نہیں کہ تم پر آسانیوں کے دروازے کشادہ کردیے جائیں حتی کہ تم روٹی اور گھی سے سیراب ہوجاؤ۔‘‘
(کنزالعمال، کتاب المواعظ، خطب ابی بکر الصدیق ومواعظہ، الحدیث: ۴۴۱۷۶، ج۸،الجزء:۱۶، ص۶۳)
(3)حیا کے سبب سر ڈھانپ لینا
حضرت سیدنا عبد اللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشادفرمایا: ’’اے لوگو! اللہ عَزَّ وَجَلَّسے حیاکرو،اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! میں سایہ حاصل کرتاہوں یہاں تک کہ میں جب کھلے میدان میں قضائے حاجت کے لیے جاتاہوں تو اس وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّسے حیا کرتے ہوئے اپنا سرڈھانپ لیتاہوں۔‘‘ ( کنز العمال، کتاب المواعظ، خطب ابی بکر الصدیق ومواعظہ، الحدیث: ۴۴۱۷۴، ج۸،الجزء:۱۶، ص۶۲)
حیاکے سبب پیٹھ دیوارسےلگانا
حضرت سیدنا عمرو بن دینار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشادفرمایا:’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے حیا کرو، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم میں جب طہارت خانے میں جاتاہوں تواپنے رب عَزَّ وَجَلَّسے حیا کے سبب اپنی پیٹھ دیوارسے لگا لیتاہوں اور اپنے سر کو ڈھانپ لیتاہوں۔‘‘ ( کنز العمال، کتاب المواعظ، خطب ابی بکر الصدیق ومواعظہ، الحدیث: ۴۴۱۷۵، ج۸، الجزء:۱۶، ص۶۲)