مٹی میں ہی چلا جائے گاکیڑے مکوڑے اسے کھاجائیں گے ایسے شخص کو فخر کرنے کی کیا ضرورت ہے،نیز آج وہ زندہ ہے توکل مرجائے گا۔ دن بدن لمحہ بہ لمحہ نیک اعمال میں لگے رہواور مظلوم کی بددعا سے بچو،اپنے آپ کو مردہ تصور کرواور صبر کروکہ ہرعمل صبر کے ساتھ قائم ہےاورڈروکہ ڈرنا آخرت میں مفید ہے اوراچھے اعمال کرو کہ اعمال صالحہ مقبول ہیں۔ ہراس چیزسےڈرو جس کے عذاب سے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تمہیں ڈرایا ہے اور ہراس نیک کام میں جلدی کرو جس کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تم سے رحمت کا وعدہ کیا ہے۔ ان تمام باتوں کو خود بھی سمجھواور دوسروں کو بھی سمجھاؤ، خود بھی ڈرواور دوسروں کو بھی ڈراؤاور اللہ عَزَّ وَجَلَّنے وہ ساری باتیں بیان کردی ہیں جن پر عمل کرکے سابقہ امتیں تباہ وبرباد ہوئیں اور وہ تمام باتیں بھی بیان کردی ہیں جن پر عمل کرکے وہ نجات پاگئیں اور اس نے تمہارے لیے اپنی پاک کتاب میں حلال و حرام پسندیدہ وناپسندیدہ تمام امور بیان کردیے ہیں، میں اپنے آپ کو اورتم سب لوگوں کو نصیحت کرنے میں کنجوسی نہیں کرتااور اللہ عَزَّ وَجَلَّہی حقیقی مددگار ہے ، نیکی کرنے کی قوت اور برائی سے بچنے کی طاقت صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّہی کی طرف سے ہےاور جو تم نے اخلاص کے ساتھ اعمال کیے وہ یقیناً رب عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت ہے اورتم نے اپنا حصہ محفوظ کرلیاہے توتم قابل رشک ہواور جوتم نے نوافل ادا کیے ہیں انہیں نوافل ہی سمجھو کہ وہ تمہارے کام آئیں گے اورتمہارے جودوست احباب اس دنیاسے جاچکے ہیں ان کے بارے میں غوروفکر کرو جوانہوں نے کمایا وہ پالیاجنہوں نے اچھے اعمال کیے وہ مرنے کے بعدخوش بخت ہوگئے اور جنہوں نے برے اعمال کیے وہ بدبخت ہوگئے۔بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّکا کوئی شریک نہیں، اللہ
عَزَّ وَجَلَّاور مخلوق کے مابین کوئی ایسانسب نہیں کہ جس کی وجہ سے اللہ اسے خیر عطا کرے۔وہ برائی کو مٹادیتاہے جبکہ اس کی اطاعت کی جائے اوراس خیرمیں کوئی خیر نہیں جس کا انجام جہنم ہواور اس شرمیں کوئی شر نہیں جس کا انجام جنت ہو،بس مجھے تم سے یہی باتیں کہنی تھیںاورمیں اللہ عَزَّ وَجَلَّسے اپنے اورتمہارے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پردرود بھیجواور تم سب پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی سلامتی ہو۔‘‘
(کنز العمال، کتاب المواعظ، خطب ابی بکر الصدیق و مواعظہ، الحدیث: ۴۴۱۷۷، ج۸،الجزء:۱۶، ص۶۳)