سنائی دیتی ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! ضرور کوئی معاملہ ہے۔‘‘حضرت سیدتنا خدیجہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کیا: ’’خدا کی پناہ! آپ کے ساتھ ایساکیوں ہوگا،اللہ کی قسم! آپ توامانت دار، صلہ رحمی کرنے والے اورنہایت ہی سچے انسان ہیں۔‘‘بعدمیں سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی غیر موجودگی میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہتشریف لائے توحضرت سیدتنا خدیجہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے آپ کو سارا ماجرا سنایاکیونکہ سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے یہی گہرے دوست تھے اور کہا: ’’اے عتیق!ایساکروانہیں ورقہ بن نوفل کے پاس لے جاؤ۔‘‘ اتنے میں سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی تشریف لے آئے، حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہآپ کو ساتھ لے کر حضرت سیدنا ورقہ بن نوفل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس چل دیئے، راستے میں گفتگو ہوئی تونبیٔ کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استفسارفرمایا: ’’ابوبکر!تمہیں میرے بارے میں یہ باتیں کس نے بتائیں؟‘‘ عرض کیا: ’’حضرت خدیجہ نے۔‘‘چنانچہ دونوں سیدنا ورقہ بن نوفل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس پہنچے، اور سارا ماجرا بیان کیا۔انہوں نے کہا:’’اب اگرآپ کو آواز آئے تو آپ وہیں ٹھرے رہیں اور مکمل بات سنیں پھرمجھے آکر بتائیں۔‘‘چنانچہ سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ویساہی کیااورجب دوبارہ ان کے پاس آئے تو انہیں وہ ساری غیبی بات بیان کردی۔انہوں نے سب کچھ سننے کے بعدآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکونبی مرسل ہونے کی خوش خبری دی۔ (البدایۃ والنھایۃ، ج۲، ص۳۴۲، دلائل النبوۃ للبیھقی، جماع ابواب المبعث، باب اول سورۃ نزلت من القرآن، ج۲، ص۱۵۸ ملخصا)
صدیق اکبر اور رسول اللہ کی غمخواری
ماہ رمضان المبارک میں دس بعثت نبوی کو اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کا وصال ہوگیا، آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کے وصال کے بعد حضور نبیٔ کریم رؤف رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہت غمگین رہنے لگے۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے آپ کا حزن وملال دیکھا نہ گیا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاپنی لخت جگر حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کو بارگاہ رسالت میں لے کر حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’یارسولاللہ صَلَّی