وجوہات ہیں،ایک وجہ تووہی ہے جومذکورہ بالا حدیث پاک میں گزری کہ آپ دونوں تقریبا ہم عمرتھے اوردوہم عمر افراد میں انسیت ومحبت ایک فطری عمل ہے۔نیزآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمکۂ مکرمہ کے اس محلے میں رہتے تھے جس میں شہر کے بڑے اور مشہور تاجر رہائش پذیر تھے اور ان کا کاروبار مکۂ مکرمہ سے لے کر یمن اور شام کے مختلف علاقوں تک پھیلا ہواتھا ، سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی حضرت سیدتنا خدیجہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے شادی کرنے کے بعد ان کے ساتھ ہی تشریف لے آئے تھے توایک ہی محلے میں رہنے کی وجہ سے دونوں میں ملاقاتوں کا سلسلہ طویل ہوتاچلاگیا اور پھردونوں کے درمیان اچھے خاصے مراسم پیداہوگئے اور یہ مراسم آہستہ آہستہ گہری دوستی میں تبدیل ہوگئے۔نیز کاروبار ایک ہونے کے ساتھ ساتھ دونوں ہستیوںکی طبیعتیں نہایت ہی نفیس تھیں، کفار قریش کی بت پرستی اور مشرکانہ عقائد و نظریات سے دونوں ہی کو سخت نفرت تھی اوریہ اُن تمام غلط رسوم وعادات واطوار سےمحفوظ تھے جن میں مکۂ مکرمہ کےدیگر لوگ مبتلاتھے۔الغرض یہی مشترکہ صفات گہری دوستی اور قربت کا ذریعہ بن گئیں نیز اسلام کے بعداس میں مزید ایسا استحکام پیداہواکہ قیامت تک اس کی مثال نہیں ملتی۔
غیبی آواز کی پکار
حضرت سیدناابو میسرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ نبیٔ کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمظہور اسلام سے قبل بعض اوقات باہر نکلتے تو کوئی غیبی شخص پیچھے سے آپ کا نام لے کریوںآوازدیتا:’’یامُحَمّد!‘‘آپ جب پیچھےدیکھتےتوکوئی نہ ہوتا۔بڑےحیران ہوتےاوردوبارہ گھرتشریف لے جاتے۔ (تاریخ الاسلام للذھبی، الجزء الاول ، ج۱، ص۱۳۷، دلائل النبوۃ للبیھقی، جماع ابواب المبعث، باب من تقدم اسلامہ من الصحابۃ، ج۲، ص۱۶۴، تاریخ الخلفاء، ص۲۷)
سیدنا ورقہ بن نوفل کے ہاں تشریف آوری
حضرت سیدناابو میسرہ عمرو بن شرحبیل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ نبی اکرم، نور مجسم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُم المومنین حضرت سیدتنا خدیجہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا:’’جب میں تنہا ہوتاہوں تو مجھےایک عجیب آواز