ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے واسطہ نہ پڑا تھا البتہ وہ تمام حالات سے باخبر تھے اور انہوں نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے جنگ کے لیے مختلف قبائل کو اکھٹا کرکے کافی بڑی جنگی تیاری کررکھی تھی۔ایرانی فوج کے علاوہ بنو تغلب، بنو اَیاداور بنو نمر وغیرہ قبائل عرب بھی رومی فوج کی مدد کے لیے میدان میں موجودتھےاور یہ عظیم لشکر مسلمانوں سے جنگ کے لیے فراض کے مقام پر پہنچا۔صف بندی کردی گئی لڑائی شروع ہونے سے قبل رومی سپہ سالار نے تمام قبائل کو علیحد ہ علیحدہ کردیا تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ کون سا قبیلہ تن دہی سے لڑا ہے۔جبکہ حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مسلمانوں کو چاروں طرف سے دشمن کو گھیر کر اور ایک ساتھ جمع ہوکر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ دراصل رومی سردار کا یہ خیال تھا کہ مختلف قبیلے لڑتے رہیں گے تو مسلمان لڑتے لڑتے تھک جائیں گے اوران پر قابو پانا آسان ہوجائے گا۔لیکن رومی سرداراس چال میں کامیاب نہ ہوسکا کیونکہ مسلمانوں نے رومی فوج کوگھیرکر ایک جگہ اکٹھا کیا اور پھر اس تیزی سے اس پر حملہ کیاکہ وہ برداشت ہی نہ کرسکے اور جلد ہی شکست کھا کر میدان جنگ سے بھاگنا شروع کردیا۔لیکن مسلمانوں نے دور تک ان کا پیچھا کیا اور انہیں قتل کرتے گئے۔کہا جاتاہے کہ فراض کی اس جنگ میں دشمن کے ایک لاکھ آدمی مارے گئے۔یہ جنگ ۱۵ ذی قعدہ ۱۲سن ہجری کو پیش آیا۔ (الکامل فی التاریخ، ج۲، س۲۵۰ ملتقطا )
سیدنا خالد بن ولید کی بہترین حکمت عملی
عراق کی ان تمام فتوحات کے بعد حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حج بیت اللہ کا ارادہ کیا ۔البتہ اس بات کا خاص خیال رکھا کہ مفتوحہ علاقوں کو یہ معلوم نہ ہوسکےکہ مسلمانوں کا سپہ سالار یہاں سے جاچکاہے اسی وجہ سے آپ نے آبادی والے راستے کے بجائے صحرائی دشوار گزار طویل راستہ اختیار کیا۔ آپ نے اپنے حج کو اتنا خفیہ رکھا تھا کہ خود حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بھی علم میں یہ بات نہ آسکی۔حالانکہ اسی سال آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی حج بیت اللہ فرمایاتھااور اپنے پیچھے حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو خلیفہ مقرر فرماکرآئے تھے۔یقیناً اس میں امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے تربیت یافتہ امیرحضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ