تَعَالٰی عَنْہکی جنگی و انتظامی حکمت عملی کا بہترین نمونہ ہے۔ (الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۵۱ ملتقطا)
شام اور ملحقہ علاقوں کی فتوحات
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ملک شام کی حالت عراق کی طرح نہیں تھی بلکہ یہ ہر اعتبار سے طاقت میں بہت زیادہ تھے۔لہٰذا حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کی طرف بہت سوچ سمجھ کر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی مشاورت سے پیش قدمی کا فیصلہ فرمایا۔شام میں لڑی جانے والی جنگیں بھی بہت ہی خطرناک تھیں، جن کے لیے مسلمانوں کی طویل جنگی حکمت عملی بھی ان کے ساتھ معاون تھی۔ فتوحات شام سے چندچیدہ چیدہ واقعات پیش خدمت ہیں:
ملک شام کی پہلی فتح
کچھ عرصے سے حضرت سیدنا خالد بن سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی مختصر سی فوج کے ساتھ شام کی سرحد پر خیمے گاڑھے بیٹھے تھے، دوسری طرف ان کے مقابلے میں روم کا بہت بڑا لشکر تھا۔ان کی تعدادمسلمانوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تھی، جبکہ مسلمان ان سے قطعاًمرعوب نہ تھے بلکہ ان کے حوصلے بہت بلند تھے۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے شامی حدود میں داخلے کا حکم ارشاد فرمادیا۔ جیسے ہی حضرت سیدنا خالد بن سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ شامی حدود میں داخل ہوئے تو روم اوراس کے حامی قبائل انہیں دیکھ کر اپنے مورچے چھوڑ کر بھاگ گئے۔ حضرت سیدنا خالد بن سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ان کے خالی مورچوں میں گئے اور ان کا چھوڑا ہوا سارا سامان اپنے قبضے میں لے لیا۔یہ ملک شا م میں ان کی پہلی فتح تھی۔ (الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۵۲ ملتقطا)
ملک شام کی پہلی صلح اورپہلی جنگ
عراق میں اسلامی فوجوں نے جو کامیابی حاصل کی، اس سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور مسلمانوں کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے۔ اب روم کی جنگ کا آغاز ہوا تو انہوں نے اپنی ہمت وطاقت میں بے پناہ