Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
407 - 691
فتح حصید،خنافس،مصیخ
دومۃ الجندل سے فراغت کے بعد حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا قعقاع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو حصید کی طرف روانہ کیا، وہاں ایران کا لشکر موجود تھا، اس کا سردار مارا گیااور لشکر فرار ہوگیا۔ یہ لوگ ایک دوسرے شہرخنافس کی طرف دوڑے، وہاں اس سے قبل ایرانی فوج موجود تھی، اس کا سپہ سالار مسلمانوں کی آمد کی خبر سن کر پہلے ہی بھاگ کر مصیخ چلا گیاتھا، جہاں ہذیل بن عمران حاکم تھا، مسلمانوں نے لڑائی کے بغیر ہی خنافس شہر پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعداسلامی لشکر کو حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مصیخ جانے کی ہدایت کی اور خود بھی وہاں پہنچےاور مصیخ پر رات کے وقت حملہ کیا وہاں کا حاکم ہذیل اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ بھاگ گیا، لیکن اس کی فوج کے بہت سے لوگ قتل ہوگئے۔  (الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۴۸ملتقطا)
ایک اہم بات
اگرحضرت سیدنا عیاض بن غنم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ دومۃ الجندل پر فتح پالینے میں کامیاب ہوجاتے تو حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ان کی مدد کے لیے نہ بھیجا جاتااور یہ تمام علاقے بھی فتح نہ ہوتےکیونکہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کاپورے عراق اورپورے شام کو زیرنگیں کرنے کا قطعا ًارادہ نہ تھا آپ تو فقط ایران اور ملک شام کی ان سرحدوں پر امن وامان قائم کرنے کے خواہاں تھے جوملک عرب سے ملتی ہیں تاکہ ایران اور روم کی فوجیں جزیرہ عرب پرحملہ نہ کرسکیں۔ لیکن   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو کچھ اور ہی منظور تھا اور حالات اس رخ پر چل پڑے تھے کہ ایران اور روم پرمسلمانوں کی حکومت قائم ہونے لگی۔
فراض اور اس کی جنگ
فراض وہ مقام ہے جو عراق اور شام کے انتہائے شمال میں واقع ہے۔ابھی تک رومیوں کا حضرت سیدنا خالد بن