سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے صلح کرلی۔ (الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۴۵)
فتح عین التمر
انبار فتح ہوچکا اور اس کے اردگرد کے علاقے بھی مسلمانوں کے قبضے میں آگئے تو حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے وہاں کے انتظام کے لیے اپنا نائب مقرر کرنے کے بعد عین التمر کا عزم کیا۔جہاں ایران کی بہت بڑی فوج مع دیگرعرب قبائل کے موجود تھی، عرب قبائل مسلمانوں کے مقابل آئے ، لڑائی شروع ہوئی اور نہایت تیزی کے ساتھ مسلمانوں نے کمند پھینکی اور ان کے سردار کو گرفتار کرلیا، عرب کے بدوی قبائل نے اپنے سردار کو گرفتار ہوتے دیکھاتو میدان چھوڑ کر بھاگ گئے مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا بے شمار مقتول ہوئے اور دیگرعرب سردارجان بچاکر بھاگنے میں کامیاب ہوگئے۔حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فوراًً قلعے کا محاصرہ کرلیا اور تھوڑی بہت مزاحمت کے بعد انہوں نے بھی ہتھیار ڈال دیےاور عین التمر بھی مسلمانوں کے قبضے میں آگیا۔ (الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۴۶ملتقطا)
فتح دومۃ الجندل
حضرت عیاض بن غنم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہایک سال سے دومۃ الجندل میں مقیم تھے کیونکہ انہوں نے اس کا محاصرہ کررکھاتھااور شہروالوں نے مسلمان فوجوں کے اردگرد مختلف قبائل بٹھا کر ان کو گھیرے میں لے رکھا تھا، یعنی دومۃ الجندل والے بھی محصور تھے اور مسلمان بھی محصور تھے، اس لیے مسلمانوں کی مدد کے لیے حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ وہاں پہنچے۔آپ نے دیکھا کہ ہر قبیلہ اپنے سردار کے ماتحت ہے۔ بہرحال جنگ شروع ہوئی اور ان کے دوشہسوار مقابلے کے لیے آئے مسلمانوں نے انہیں گرفتارکرلیا باقی لوگ قلعے کی طرف بھاگ گئے ، قلعے والوں نے دروزاہ بند کردیااور باہر موجود لوگوں کومسلمانوں کی تلواروں کے سپرد کردیا، قلعے کے دروازے پر لاشوں کا ڈھیر لگ گیا اور قلعہ کا دروازہ کھولنا ممکن نہ رہاتو دروازہ اکھیڑ دیاگیا، اندر موجود سردار فوج سمیت بھاگ گیا، قلعے میں موجود تمام باغیوں کو قتل کردیاگیا۔یوں دومۃ الجندل بھی فتح ہوگیا۔
(الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۴۷ ملتقطا )