Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
405 - 691
کے حوصلے ٹوٹ چکے تھے لہٰذا وہ زیادہ دیر اسلامی فوج کا مقابلہ نہ کرسکے اور شکست کھا کر میدان چھوڑ گئے۔اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مسلمانو ں کو اپنے کرم سے فتح عظیم عطا فرمائی۔ عراق کی اس پہلی جنگ کو ’’ذَاتُ السَّلَاسِل‘‘ اس لیے کہتے ہیں کہ ’’سَلَاسِل‘‘عربی میں ’’سِلْسِلَۃ‘‘کی جمع ہے جس کا معنی زنجیرہے، اس جنگ میں ایرانی فوج نے اپنے آپ کو ایک دوسرے کے ساتھ زنجیروں میں جکڑ لیا تھا تاکہ کوئی شخص جنگ سے بھاگنے نہ پائے ، اس لیے اسے جنگ ذات السلاسل یعنی’’ زنجیروں والی جنگ‘‘ کہتے ہیں۔  						    (الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۳۹ ملتقطا)
فتح حیَرہ
یہ شہر پچیس سال قبل عراقی عربوں کا دارالحکومت تھا اوراس کی جوشان وشوکت عربوں کے دورمیں تھی اب اسے کھوچکاتھا، اس کا حاکم مرزبان تھا، اس شہر کے باشندوں اور حاکم کو یہ معلوم تھا کہ حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اس طرف بھی رخ کریں گے ، اس لیے انہوں نے آپ کے آتے ہی دریائے فرات کا پانی بند کردیا، بہرحال تھوڑی سی جھڑپ کے بعد یہ لوگ بے بس ہوگئے اور جزیہ پر صلح کرلی اور یوں حیرہ بھی فتح ہوگیا۔ حیرہ کی فتح کے بعد حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسی شہر کو مسلمانوں کا فوجی مستقر اور گردوپیش کے مفتوحہ علاقے کا دارالحکومت قرار دے دیا اس اعتبار سے حیرہ مسلمانوں کا پہلا دارالحکومت تھا جو جزیرہ عرب کے باہر بنایا گیا۔  (الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۴۴ملخصا)
فتح انبار
کسریٰ کی فوجیں حیرہ کے نواح میں دو مقامات انبار اور عین التمرکے میدانوں میں تھیں، اب چونکہ عرب سے باہرمسلمانوں کا دارالحکومت حیرہ تھا اس لیے اسے کسی بھی وقت نشانہ بنایاجاسکتا تھا، اس لیے حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے خاموش بیٹھے رہنے کے بجائے اس کی طرف پیش قدمی کی اور اس کا محاصرہ کرلیا، تھوڑی بہت مزاحمت کے بعد وہاں کے لوگوں نے بھی ہتھیار ڈال دیے ، انبار کی صلح کے بعد قرب وجوار کی بستیوں نے بھی حضرت