Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
404 - 691
دورصدیقی میں فتوحات کا  آغاز 
عراق اور ملحقہ  علاقوں کی فتوحات
جنگ ذات السلاسل
جنگ یمامہ سے فراغت کے بعد امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو عراق کی طرف پیش قدمی کا حکم دیا،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجب عراق روانہ ہوئے تو آپ کے ساتھ دس ہزار کی فوج تھی، جب عراق پہنچے تو سرحد پر حضرت سیدنا مثنیٰ بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہدو ہزار فوجیوں کے ساتھ ان کا انتظار کررہے تھے۔حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہاں فوج کو تین حصوں میں تقسیم کیا اور تینوں کو الگ الگ محاذوں پر جانے کا حکم ارشاد فرمادیا۔ فوج کا ایک حصے پر حضرت سیدنا مثنیٰ بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مقرر فرمایا۔ دوسرے حصے پر حضرت سیدنا عدی بن حاتم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو مقرر فرمایا اور تیسرے حصے کی کمان آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے خود سنبھال لی۔ایران کے مشہور حاکم ہرمزکی طرف ایک مکتوب لکھاجسے پڑھتے ہی وہ بھی جنگ کے لیے تیار ہوگیااور جنگ کے مقام پر حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے پہلے ہی پہنچ کر پانی پر قبضہ کرلیا۔ جب سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہوہاں پہنچے تو آپ کو ایسی جگہ پڑاؤ کرنا پڑا جہاں پانی موجود نہ تھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مسلمانوں کو ایک نیا جذبہ عطا فرمایااور مسلمانوں کو پانی کی فکر سے بے نیاز کردیا۔ اب ہرمز نے آپ کو مقابلے کےلیے طلب کیا اور اس نے پہلے سے ہی کچھ سپاہی چھپادیے تاکہ وہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو شہید کردیں لیکن حضرت سیدنا قعقاع بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاس کی اس سازش پر مطلع ہوگئے اور وہ بھی حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پیچھے پیچھے چل پڑے۔ بہر حال لڑائی شروع ہوگئی اور حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ہرمز کی گردن اڑادی ۔ اب فریقین کے درمیان جنگ شروع ہوگئی، لیکن اپنے سپہ سالارہرمز کے قتل ہوجانے کی وجہ سے ایرانی فوج