Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
403 - 691
 معاملات ان ہی کے سپرد تھے۔
(3) حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیدنا زید بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ذمے تحریر وکتابت کا شعبہ تھا۔ مختلف لوگوں کے نام جن میں انتظامیہ اور فوج کے سب لوگ شامل تھے، انہیں فرامین جاری کرنا، ضروری امور کے بارے میں ان سے خط وکتابت کرنا، انہیں مراسلے بھیجنا اور ان کے مراسلوں کا جواب دینا آپ دونوں ہی کی ذمہ داری تھی۔
(4) مختلف علاقوں میں دربار خلافت کی طرف سے جو عمال اور گورنر مقرر کیے گئے تھے ان سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا باقاعدہ رابطہ رہتاتھا، ہدایات دینے کے لیے ان کی طرف معتمد علیہ افراد بھیجے جاتے تھے اور ان سے ان کے علاقوں کے حالات بھی دریافت کیے جاتے تھے۔
(5)  کوئی شخص بغیر مشورے اور اطلاع کے کوئی قدم نہیں اٹھا سکتاتھا۔ارتداد وبغاوت کی جنگوں کے زمانے میں مختلف علاقوں کے قائدین وعمال اور فوجوں کے سربراہوں کے درمیان حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی جو خط وکتابت ہوتی تھی وہ بھی کتب تاریخ میں آج تک محفوظ ہے۔		(سیراعلام النبلاء، الجزء الثانی، ج۱، ص۴۷۷ ملخصا)
بہرحال آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت کا پہلا سال نہایت ہی مصروفیت کا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حج کے موقع پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی جگہ حضرت سیدناعتاب بن اُسید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو امیر الحج مقرر فرمایا۔کم وبیش ایک سال تک ارتداد کی جنگیں جاری رہیں اوراس دوران حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی توجہ اسی طرف مبذول رہی۔ جب یہ سلسلہ ختم ہوا اور پورے عرب میں امن امان قائم ہوگیااور مکمل اسلامی حکومت کا قیام عمل میں آگیا توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسلامی تعلیمات کو جزیرہ عرب سے باہر عام کرنے اور اس کی نشرواشاعت کے دائرے کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا اور یہی وہ دور تھاجہاں سےاسلامی فتوحات کا آغاز ہوا ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد