چنی تھیں جو چند ہی روز میں صداقت کے ریلے میں بہہ گئیں۔ ان کا خیال تھا کہ حضور نبیٔ کریم ،رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سخت مخالفت کی گئی ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اور آپ کے متبعین کو شدید سزائیں دی گئیں، ان سے قطع تعلق کیاگیا،اور آخر میں انہیں مکۂ مکرمہ سے نکل جانے اور کسی دوسرے مقام کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور کیا گیا، اس کے باوجود آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کامیاب ہوئے۔ اسی طرح تھوڑی بہت تکلیفوں کے بعد ہمارے سروں پر بھی کامیابی وکامرانی کا تاج سجا دیا جائے گا، لیکن یہ ان کا وہم تھا جو چند ضربوں کے بعد ان کے ذہنوں سے نکل گیا۔
مجلس انتظامی امور
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خلافت راشدہ کے پہلے سال کا زیادہ تر حصہ مرتدین اورباغیوں کی بغاوت وارتداد کو ختم کرنے میں گزرا۔بلکہ تمام مسلمانوں نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی معاونت کی اوراسلامی فوج میں شامل ہوکر ان کے خلاف جہاد میں مصروف رہے اوران فتنوں کو ختم کرنے میں آپ کا بھرپور سا تھ دیا ۔ اس لیے انہیں باربار ملک کے مختلف علاقوں اور قبیلوں میں بغرض جہاد بھی جاناپڑا۔ بغاوت وارتداد کے خلاف جنگ وجہاد کے ساتھ ساتھ مملکت کے انتظامی امور کی طرف بھی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے توجہ مبذول کیے رکھی اور مدینہ منورہ میں ایک بہترین نظام قائم فرمادیا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی قائم کردہ مجلس انتظامی امور کی ایک جھلک ملاحظہ کیجئے:
(1) حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مدینۂ منورہ کے منصب قضا پر متعین کیا گیا، لیکن عجیب اتفاق ہے کہ وہ دوسال اس منصب پر فائز رہے اور اس دوران کوئی مقدمہ ان کی شرعی عدالت میں نہیں آیا۔ مدینۂ منورہ سے باہر مرتدین اور باغیوں سے جنگیں ہو رہی تھیں لیکن مدینۂ منورہ میں کسی قسم کی کوئی ایسی شکایت پیدا نہ ہوئی جس کے سبب آپ کی عدالت میں کسی کو حاضر ہونا پڑتا۔
(2)حضرت سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیت المال کے نگران تھے، زکوٰۃ و صدقات کے مال کے تمام