ان کے احکام متواتر پہنچ رہے تھے۔بظاہر یہ نظر آتاہے کہ ان گیارہ اسلامی لشکروں نے ہر طرف روانہ ہوکر ملک عرب سے فتنہ ارتداد کو مٹا دیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ خلیف الرسول نے مدینہ طیبہ میں بیٹھے ہوئے شام ونجد سے مسقط وحضرموت تک اور خلیج فارس سے یمن وعدن تک تمام ممالک تن تنہا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی توفیق اوراس کی عطا کردہ تدبیر سے چند مہینے کے اندر پاک وصاف کردیے۔ ان فتنوں کی ہمت شکن ابتداء میں کوئی شخص حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے سوا ایسا نہ تھا جو اس کی انتہا کو دیکھ سکتا اور صرف سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو وہ باطنی بصارت حاصل تھی کہ انہوں نے نہ لشکر اسامہ کی روانگی کو ملتوی کرنا مناسب سمجھا، نہ منکرین زکوٰۃ کے مطالبات کی پرواہ کی۔یہ سب باتیں ایک روز روشن کی طرح اس بات پر دلالت کررہی ہیں کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےجانشین اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قائم کی ہوئی سلطنت کے شہنشاہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی ہیں۔
جھوٹے نبیوں کی خوش فہمی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عرب کے بعض وہ قبائل جن میں جھوٹے مدعیان نبوت پیدا ہوگئے تھے دراصل وہ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ اگر قبیلہ قریش کے نبی محمدبن عبداللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّملوگوں سے اپنی نبوت منوانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں تو دیگر قبائل کے لوگوں میں سے کسی کو بھی یہ اعزاز حاصل ہوسکتاہے۔ انہوں نے اس اہم مسئلے پر غور وفکر ہی نہ کیا کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ تعالٰی کے بھیجے ہوئے سچے رسول ہیں، اسی وجہ سے آپ کی دعوت عوام توعوام خواص کو بھی اپنی طرف کھینچتی اور ان کے ذہن وفکر میں جذب ہوجاتی ہے۔ معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جس اسلوب سے نشان دہی فرمائی اس میں کوئی آپ کامثل نہ تھا، وجود باری تعالیٰ پر جو دلائل قرآن مجید میں دیئے گئے ،کون ہے جو اس باب میں اسلوب قرآن کے ہزارویں حصے کو بھی پہنچ سکے؟ عرب کے ان مدعیان نبوت کی دعوت سراسر جھوٹ، افتراء اور کذب پر مبنی تھی اور باطل کی کھوکھلی بنیادوں پر انہوں نے اپنی اپنی نبوت کی ایسی کچی دیواریں