حکمت عملی کے ساتھ ان پر قابو پالیا گیا، نامی گرامی سرداروں اور قیدیوں کو امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں بھیج دیاگیا اور اس طرح کندہ وحضرموت میں بھی امن وامان کی فضا بحال ہوگئی۔ خطۂ عرب کی یہ آخری چھ جنگیں تھیں جو باغیوں ومرتدین کے خلاف لڑی گئیں اس سے بغاوت وارتداد کے تمام آثار بالکل ختم ہوگئے۔ قبائل عرب نے مدینہ منورہ کی اسلامی حکومت کی اطاعت قبول کرلی۔ (الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۳۳ ملتقطا)
فتنہ ارتداد کا مکمل خاتمہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ۱۱ سن ہجری کے اختتام اور ۱۲ سن ہجری کی ابتداء سے پہلے پہلے یعنی کم وبیش ایک سال کی مدت میں امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ملک عرب کے فتنہ ارتداد کو مکمل طور پر ختم فرمادیا۔ محرم الحرام ۱۲سن ہجری میں جزیرۃ العرب مشرکین ومرتدین سے بالکل پاک وصاف ہوچکا تھااور اس کے کسی گوشے اور حصے میں شرک وارتداد نام کی کوئی سیاہی باقی نہ رہی تھی۔
صدیق اکبر سلطنتِ مصطفے کےشہنشاہ
ان جنگوں سےاگرکچھ عرصہ پہلے کی حالت پر غور کیا جائے تو مدینہ منورہ ومکہ مکرمہ وطائف کے علاوہ پورا عرب غبار آلود تھا۔لیکن پروانۂ شمع رسالت اور بارگاہ مصطفےٰ کے تربیت یافتہ حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ہمت وحوصلے کا اندازہ کریں کہ تن تنہا اس تمام طوفان کے مقابلے میں جس شان وشوکت اور شجاعت کے ساتھ میدان میں نکلے قیامت تک اس کی مثال نہیں ملے گی۔اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ خود اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ایک زندہ معجزہ تھے۔اس میں شک نہیں کہ لشکر صدیقی میں حضرت سیدنا خالد بن ولید، حضرت سیدنا عکرمہ بن ابی جہل، حضرت سیدنا شرحبیل بن حسنہ، حضرت سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم جیسے بے نظیر مردان عرب موجود تھے۔لیکن امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکس طرح مدینہ منورہ میں تشریف فرماہونے کے باوجود ملک کے ہر حصے اور گوشے کی حالت سے باخبر تھے اور کس طرح فوجی دستوں کے پاس