نجران میں داخل ہوکر خیمہ زن ہوئے۔یمن کے دونوں مرتد سردار پہلے ہی سے تیار تھے۔ عمرو بن معدی کرب عرب کا ایک مشہور سردار تھا، جس کی صف شکنی کی تمام ملک میں دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ اس لیے حضرت سیدنا مہاجر بن امیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے دشمنوں کی بے قیاس ولاتعداد افواج میں اپنے آپ کو محصور دیکھ کر اپنے ہمراہیوں کو جراءت وغیرت دلائی اور ان کی ہمت بندھائی ، پھر مرتدین پر حملہ آور ہوئے۔ نہایت سخت معرکہ ہوا۔لشکر اسلام کو غلبہ حاصل ہوا، قیس وعمرو دونوں سردار مسلمانوں کی قید میں آئے۔ دونوں کو بارگاہ صدیقی میں پیش کیا گیا تو دونوں نے اپنے ارتداد سے پشیمانی کا اظہار کیا اور توبہ کرکے بخوشی اسلام قبول کرلیا۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی دونوں کو معاف فرما دیا ۔یہ دونوں سردار آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے حکم سے دوبار ہ یمن واپس آگئے۔ (الکامل فی التاریخ،ج۲، ص۲۲۸ تا ۲۳۰)
کندہ وحضر موت کے
مرتدین باغیوں کے خلاف جہاد
دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال ظاہری کے بعد عرب میں ارتداد نے زور پکڑا تو ’’کندہ وحضر موت‘‘ کے علاقے بھی اس کی زد میں آگئے۔کندہ محل وقوع کے اعتبار سے یمن سے ملحق تھا اس لیے جب اسود عنسی نے یمن میں نبوت کا دعوی کیا تو باشندگان کندہ بھی اہل یمن کی طرح اس کی نبوت کو ماننے لگے۔حضرت سیدنا زیاد بن لبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجو اس وقت حضر موت کے امیر تھےانہوں نے اس فتنے کو ابتدامیں ہی ختم کرنے کی کوشش کی اس لیے انہوں نے اسلام پر ثابت قدم قبائل کو ساتھ ملا کر لشکر تیار کیا اور قبیلہ بنو عمرو بن معاویہ پر حملہ کیا اور ان کی قیدی عورتوں اور مال غنیمت وغیرہ لے کر کندہ کے راستےچلے گئے۔راستے میں ایک قبیلے سے گزررہے تھےکہ معلوم ہوا اس قبیلے کے لوگ بھی باغی ہوگئے ہیں تو حضرت سیدنا زیاد بن لبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے معاونت کے لیے حضرت سیدنا مہاجر بن امیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف پیغام بھیجا جو حضرت سیدنا عکرمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ یمن کی بغاوت کو ختم کرچکے تھے۔ یہ پیغام پہنچتے ہی وہ دونوں ان کی مدد کو آپہنچےاور باغیوں کے ساتھ جنگ کی گئی اور بہت ہی