کیے، لیکن مسلمانوں کے صبر واستقامت کے آگے وہ پسپا ہوگیا اور اس کا لشکر منہ موڑ کر بھاگ کھڑا ہوا، بالآخر مسلمانوں کو فتح عظیم نصیب ہوئی۔ اس لڑائی میں دس ہزار دشمن مقتول ہوئے اور چار ہزار گرفتار ہوئےاور اتنا ہی مال غنیمت مسلمانوں کے قبضے میں آیا۔ صرف چند روز کے بعد عمان میں اسلام قائم ہوگیا۔ (الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۲۸ تا ۲۲۹)
مرتدین مہرہ کے خلاف جہاد
عمان میں کچھ لوگ مہرہ کے مقیم تھے ان کے علاوہ عبد القیس کے لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ ازد اور بنی سعد وغیرہ قبائل بھی وہاں آباد تھے۔ یہ سب کے سب مرتد ہو کر ریاست وامارت کے معاملہ میں دو گروہوں کے اندر منقسم ہو کر آپس میں لڑائی جھگڑا کررہے تھے۔ حضرت سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مہرہ پہنچ کر ان لوگوں کو اسلام کی دعوت دی۔ ان میں سے ایک گروہ نے تو اسلام قبول کرلیا لیکن دوسرے گروہ نےجس کا سردار مصبح تھا اسلام قبول کرنے سے انکار کردیااور اپنے ارتداد پر اصرار کیا۔حضرت سیدنا عکرمہ بن ابی جہل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے گروہ مسلم کو اپنے ساتھ لے کر مرتدین پر حملہ کیا اور ایک مضبوط مزاحمت کے بعد اس کے سردار کو قتل کردیااور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوگئی اس فتح کا یہ مثبت اثر ظاہر ہواکہ اردگرد کے تمام قبائل نے بخوشی اسلام قبول کرلیا۔ (الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۲۹ تا ۲۳۰)
یمن کے مرتدین کے خلاف جہاد
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال ظاہری کے بعد تقریباً پورے ملک یمن میں ارتداد پھیل گیا تھا، اسود عنسی کاتو خاتمہ ہوچکا تھا لیکن یمن کے مرتدین میں دو مشہور سردار بھی تھے۔ ایک قیس بن مکشوح اور دوسرا عمرو بن معدی کرب۔یمن کے مسلمانوں کو مرتدین یمن نے بہت ستایا۔ ملک یمن کے علاقے صنعاء کی طرف حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیدنا مہاجر بن امیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو مدینہ منورہ سے روانہ فرمایاتھا جوکہ مکہ وطائف سے مسلمانوں کی جمعیت کو ہمراہ لیتے ہوئے نہایت تیز رفتاری سے علاقہ