مرتدین بحرین سےجنگ
امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو بحرین کے مرتدین کی سرکوبی کے لیےحضرت سیدنا علاء بن حضرمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو روانہ فرمایا، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بحرین پہنچ کر حطمکے قریب پڑاؤ ڈالا اور بنو عبد القیس کو اپنی آمد کی اطلاع دے دی۔ مرتدین سے مقابلے کے لیے خندق کھودی گئی اور ایک رات جب مرتدین کے لشکر سے شورو غل کی آوازیں آرہی تھیں اور وہ شراب کے نشے میں مدہوش تھے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے موقع کو غنیمت جانا اور فوج کی اچھی خاصی تعداد کے ساتھ خندق عبور کرکے دشمن پر ہلہ بول دیا۔ تیزی کے ساتھ تلواریں چلنے لگیں۔مرتدین بالکل بے بس تھے بہت سے لوگوں نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن خندق میں گرگئے بے شمار کو قتل کیا گیااور کثیر تعداد میں گرفتار کرکے قیدی بنا لیے گئے۔ایک جگہ بنو حنیفہ کے قیس بن عاصم نے دیکھا کہ حطم بن ضبیعہ زمین پر گراہوا ہے اسے وہیں قتل کردیا۔ جنہوں نے اپنے جرم کا اقرار کرکے توبہ کی انہیں معاف کردیاگیا۔اس طرح بحرین کا فتنہ بھی ختم ہوگیا۔ (الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۲۷)
مرتدین عُمان کے خلاف جہاد
امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا حذیفہ بن محصن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو عمان کی جانب اور عرفجہ بن ہرثمہ کو اہل مہرہ کی جانب روانہ فرمایا تھا۔ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال ظاہری کی خبر سن کر ملک عمان میں لقیط بن مالک نے نبوت کا دعوی کیا ، اہل عمان اور اہل مہرہ مرتد ہوگئے ۔ حضرت سیدنا حذیفہ بن محصن حمیری ، حضرت سیدنا عکرمہ بن ابی جہل اور حضرت سیدنا عرفجہ بن ہرثمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم تینوں سپہ سالار صحرائے عمان میں مل کر خیمہ زن ہوئے۔ لقیط بن مالک نے مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے اپنی فوج تیار کرلی تھی۔مسلمانوں کی فوج میں رؤساء عمان جو اسلام پر ثابت قدم رہے تھے وہ بھی شامل تھے، لڑائی شروع ہوئی ، اسلامی لشکر نشیبی زمین میں تھااور دشمنوں کو بلند زمین پر موقع مل گیا تھا۔ لقیط نے بڑی بہادری کے ساتھ حملے