ارتداد کی آخری چھ جنگیں
مرتدین بحرین کے خلاف جہاد
بنو عبد القیس کی ارتدادسےتوبہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفات ۱۱سن ہجری کو ربیع الاول کے مہینے میں ہوئی۔ اسی مہینے بحرین کے بادشاہ منذر بن ساوی کا انتقال ہوا اس کے انتقال کے بعد دوسرے علاقوں کی طرح بحرین میں بھی ارتداد کا ریلا آگیا اور علاقے کے سب لوگ مرتد ہوگئے، اس کے نتیجے میں حضرت سیدنا علاء بن حضرمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو وہاں سے نکلنا پڑا اور جارود بن معلی عبدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاسلام پر قائم رہے۔ ان کا تعلق بنو عبد القیس سے تھا، آپ نے اپنے قبیلے والوں سے مرتد ہونے کی وجہ پوچھی تو انہوں نےجواب دیا:’’اگر محمد(صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)نبی ہوتے تو کبھی وفات نہ پاتے۔‘‘ آپ نے کہا: ’’تمہیں معلوم ہے کہ محمد صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے پہلے بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ مختلف اوقات میں دنیا میں نبی مبعوث فرماتارہا ہے وہ تمام نبی کہاں گئے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا:’’وہ سب وفات پا گئے۔‘‘آپ نے فرمایا:’’جس طرح دوسرے انبیاء وفات پاگئے اسی طرح آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی وفات پا گئے۔‘‘پھر آپ نے کلمہ شہادت پڑھاتو وہ لوگ اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے بھی دوبارہ کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کرلیا اور اپنے ارتداد سے توبہ کرلی۔
حطم بن ضبیعہ کا ارتداد
قبیلہ بنو عبد القیس کے لوگوں نے تو اسلام قبول کرلیا لیکن دیگر قبائل ایک شخص حطم بن ضبیعہ کے جال میں پھنس گئےاور وہ مرتد ہی رہے بلکہ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاری شروع کردی۔ (الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۲۵)