بھی تھا جو اسے اپنی ماں اُمّ قرفہ کی طرف سے ملا تھا۔بہر حال اس نے قبیلہ بُزاخہ کے لوگوں کو حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مقابلے کے لیے دوبارہ تیار کرنا شروع کردیا۔جب حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو اس کا علم ہوا تو اس لشکر کی سرکوبی کے لیے روانہ ہوگئے۔
اُمّ زمل سے جنگ اور اس کا نتیجہ
اب حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور اُمّ زمل کی فوجیں میدان جنگ میں ایک دوسرے کے مقابل مکمل تیاری کے ساتھ کھڑی تھیں اور دونوں طرف صورت حال بہت ہول ناک تھی، دیکھتے ہی دیکھتے ہی جنگ شروع ہوگئی اور آغاز جنگ ہی میں فریقین کی فوجیں ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑیں۔ اُمّ زمل اپنے جنگی اونٹ پر سوار تھی اور اشتعال انگیز تقریروں سے اپنے فوجیوں کو جوش دلارہی تھی ، وہ فن حرب میں بہت مہارت رکھتی تھی، لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ اس کے مقابلے میں کوئی عام شخص نہیں بلکہ سیف اللہ یعنی اللہ کی تلوارہے۔اُمّ زمل کے اونٹ کے گرد سو ۱۰۰اونٹ تھے جن پر بڑے بہادر اور جنگ کے ماہر فوجی سوار تھے جو اُمّ زمل کی حفاظت پر مامور تھے۔ ادھر مسلمان شہسوار بھی انتہائی زوردار حملے کررہے تھےاور شجاعانہ طریقے سے لڑرہے تھے۔ ان کا اصل نشانہ اُمّ زمل تھی۔ اس کے قریب پہنچنے کی انہوں نے بہت کوشش کی لیکن اس کے محافظوں نے یہ کوشش ناکام بنادی۔ بالآخر مسلمانوں نے ایک ایسا زور دار حملہ کیا کہ اس کے سارے محافظوں کو قتل کردیا اور اس کے قریب پہنچتے ہی تیزی کے ساتھ اس کے اونٹ کی کونچیں کاٹ دیں، اب اونٹ اُمّ زمل سمیت نیچے گرگیا ۔اسے فوراً قتل کردیا گیا ۔ جیسے ہی یہ قتل ہوئی اس کے سارے فوجیوں کے حوصلے پست ہوگئے اور وہ مایوسی کے عالم میں میدان جنگ سے بھاگنے لگے ، مسلمانوں نے بھی ان کو تلوار کی دھار پر رکھ لیااور بالآخر یہ فتنہ بھی اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ (الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۱۱ ملتقطا)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد