’’یعنی میں نے اپنا نیزہ خالد کے لشکرکے خون سے سیراب کردیا ہے اور مجھے امید ہے کہ میں آئندہ بھی اسی طرح کرتارہوں گا۔‘‘لیکن جب ابو شجرہ نے دیکھا کہ اس کے اشعار خالد کے خلاف مؤثر ثابت نہیں ہوئے اور لوگ بہ کثرت اسلام قبول کررہے ہیں تو اس نے بھی بارگاہ صدیق اکبر میں حاضر ہوکر اسلام قبول کرلیا۔ (الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۱۱تا ۲۱۲)
اُمّ زمل کے خلاف جہاد
اُمّ زمل کون تھی؟
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا زید بن حارثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو قبیلہ فرازہ کی طرف لڑائی کے لیے روانہ فرمایا، اس میں مسلمانو ں کو فتح نصیب ہوئی، بنو فرازہ کے بہت سے آدمی قتل کردیے گئے ان میں ایک اُمّ قرفہ نامی عورت بھی قتل کی گئی، اس کی ایک بیٹی تھی جس کا نام اُمّ زمل تھا، اسے لونڈی بنا لیا گیااور یہ لونڈی حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے حصے میں آئی، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اسے آزاد فرمادیا۔ اسے اپنی ماں کے قتل کا بہت افسوس تھا،وہ مسلمانوں سے اپنی ماں کے قتل کا بدلہ لینا چاہتی تھی، عہد صدیقی میں جب فتنہ ارتداد ابھرا تو اسے موقع مل گیا اور بزاخہ کے میدان میں جن لوگوں نے حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے شکست کھائی تھی، وہ بھاگ کر اس کے پاس پہنچ گئے اور وہ ان کو ساتھ لے کر مسلمانوں کے مقابلے میں میدان جنگ میں اتر آئی۔
اُمّ زمل کا جنگی اونٹ
اس زمانے میں عرب اپنے پاس جنگی اونٹ رکھا کرتے تھے جو جنگ وقتال کے مواقع پر بہت کام دیتے تھے، انہیں باقاعدہ جنگی تربیت دی جاتی تھی اور یہ اونٹ دشمن کی صفوں میں گھس جاتے تھے، اسی قسم کا ایک اونٹ اُمّ زمل کے پاس