فجاہ ایاس بن عبد کے خلاف جہاد
’’فجاہ ایاس بن عبد یا لیل‘‘ بھی مرتد تھا اور اس نے مسلمانوں کا قتال کیا وہ اس طرح کہ یہ خلیفۂَ رسولحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ:’’ جس مرتد قبیلے سے آپ کا حکم ہوگا میں جنگ کروں گا۔ آپ میرے لیے اسلحہ فراہم کردیں۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کی طلب کے مطابق اسے اسلحہ دے دیا اور ایک قبیلے سے لڑنے کا حکم دیا۔لیکن اس نے وہ اسلحہ بنو سلیم، بنو عامر اور بنو ہوازن کے مسلمانوں کے خلاف بھی استعمال کیا اور اپنی ذاتی دشمنی کی بناء پرمرتدین کے خلاف بھی استعمال کیااور متعدد مسلمانوں کو اس نے قتل کیا۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو معلوم ہوا تو حضرت سیدنا طریفہ بن حاجز رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو فوج کا ایک دستہ دے کر فجاہ کی طرف روانہ کیا۔ جنگ میں اس کو شکست ہوئی اور گرفتار کرکے بارگاہ صدیق اکبر میں مدینہ منورہ لایا گیا۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسے خلیفۂ وقت کو دھوکا دینے اور مسلمانوں کو قتل کرنےجیسے گھناؤنے جرم کی پاداش میں آگ میں جلانے اورہاتھ پاؤں باندھ کر رجم کرنے کا سخت حکم ارشاد فرمایا۔ (الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۱۱ملتقطا)
ابو شجرہ بن عبد العزی کا ارتداداور قبول اسلام
ابو شجرہ بن عبد العزی عرب کی مشہور شاعرہ خنساء کا بیٹا تھا۔ اس نے اپنے بھائی صخر کی یاد میں نہایت ہی دردناک اور دل سوز مرثیے کہے تھے، کیونکہ یہ اپنی والدہ کی طرح ایک بہت اچھا شاعر تھا۔ یہ بھی مرتدین سے مل کر مرتد ہوگیااور اس قسم کے اشعار کہنے لگا جن میں لوگوں کے جذبات کو مسلمانوں کے خلاف بھڑ کایا جاتا اور جنگ کے لیے تیار کیا جاتا تھا۔ ان اشعار میں سے ایک شعر یہ تھا:
فَرَوَّیْتُ رُمْحِی مِن کَتِیْبَۃِ خَالِدٍ
وَاِنِّی لَاَرْجُوْ بَعْدَھَا اَنْ اَعْمَرَا