Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
392 - 691
حضرت سیدنا فیروز دیلمی کاتعارف
اسود عنسی کو قتل کرنے والے حضرت سیدنا فیروز دیلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جید صحابی اور نجاشی بادشاہ کے بھانجے تھے۔ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اسود عنسی کے قتل کی خبر آپ کے وصال سے ایک دن اور ایک رات پہلے ہی دے دی گئی تھی۔ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کو قتل کی خبردی توحضرت سیدنا فیروز دیلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا ذکر خیر کرتے ہوئے ارشا دفرمایا:’’آج رات اسود عنسی مارا گیا، اسے بابرکت گھرانے کے بابرکت مرد نے قتل کیا ہے۔‘‘صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ! وہ کون ہے؟‘‘ارشاد فرمایا: ’’وہ فیروز دیلمی ہے۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا:’’فیروز کامیاب ہوگئے۔‘‘    (سیرت سید الانبیاء، ص۶۰۸، کتاب العقائد، ص۵۰)
علقمہ بن علاثہ کے خلاف جہاداور اس کا قبول اسلام
قبیلہ بنو کلب عرب کا ایک مشہور قبیلہ تھا ۔ علقمہ بن علاثہ کا تعلق اسی قبیلے سے تھا۔ اس نے دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے زمانے میں اسلام قبول کرلیا تھا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زندگی ہی میں مرتد ہوگیا تھا اور ملک شام چلا گیا تھا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال ظاہری کے بعد وہ اپنے قبیلے بنو کلب میں واپس آیا اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاری کرنے لگا۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو اس کے ارادوں کا علم ہوچکا تھا لہذا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کے خلاف جہاد کے لیے حضرت سیدنا قعقاع بن عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو روانہ فرمایا۔ لیکن علقمہ بن علاثہ مقابلے پر نہیں آیا بلکہ وہاں سے فرار ہوگیا، اس کی بیوی ، اس کے بیٹوں اور اس کے دیگر رفقاء نے اس کے ساتھ جانے سے انکار کردیا اور انہوں نے اسلام بھی قبول کرلیا۔ بعد میں اس نے بھی بارگاہ صدیق اکبر میں حاضر ہوکر توبہ کرلی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کی توبہ قبول کرلی اورمعاف بھی فرمادیا۔ اس نے نہ تو مسلمانوں سے جنگ کی تھی نہ ہی کسی مسلمان کو قتل کیا تھا۔ (الکامل فی التاریخ، ج۲، ص۲۱۰ملتقطا)