Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
391 - 691
اسود عنسی کا عروج
صنعاء (یمن) کے علاقہ میں کسری کی طرف سے حضرت سیدنا باذان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہگورنر تھے،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی توفیق سے یہ بھی مشرف باایمان ہوگئے تھے نبیٔ کریم، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں ان کے منصب پر بحال رکھا، جب ان کا وصال ہوا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کے علاقہ کو تین حصوں میں تقسیم کیا ایک حصہ حضرت سیدنا باذان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے صاحبزادے حضرت شہربن باذان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دوسرا حصہ حضرت سیدنا ابو موسی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو اور تیسرا حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو عطا فرمایا۔ اسود عنسی کا عروج اسی دوران شروع ہوا۔ اس نے اپنے لشکر سے صنعا ء پر قبضہ کرلیا۔ حضرت شہر بن باذان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کردیا اور ان کی زوجہ کی طرف نکاح کا پیغام بھیجا۔ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تک اس کی اطلاعات پہنچیں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: جس طرح ہو سکے اس کے شر کو ختم کردو۔   (مدارج النبوت، ج۲، ص۴۰۷)
اسود عنسی کا ذلت آمیزقتل
 ماہ صفر المظفر ۱۱سن ہجری میں ہی کذاب اسود عنسی کو صحابی رسول حضرت سیدنا فیروز دیلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے واصل جہنم فرمایا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو نبی اکرم نور مجسم شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسود کو قتل کرنے کے لیے بھیجا، حضرت فیروز دیلمی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اسود کے شہر صنعاء (یمن)میں پہنچ کر چھپ گئے اور ایک رات اسود کی رہائش گاہ کی دیوار میں نقب لگائی اور اسے قتل کردیا حالانکہ اس وقت ایک ہزار آدمی اس کے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ موت کے وقت اس کے منہ سے گائے کے ڈکرانے کی طرح اونچی آواز نکلی اس کے پہرے دار اس کی طرف دوڑے لیکن حضرت سیدنا باذان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی زوجہ مرزبانہ نے کہارک جاؤ! اس کے پاس کوئی نہیں جائے گا کیونکہ تمہارے نبی پر وحی نازل ہورہی ہے۔ اس طرح وہ واصل جہنم ہوگیا۔
(سیرت سیدالانبیاء، ص۶۰۸، ۵۷۶، مدارج النبوت، ج۲، ص۴۰۸)