حضرت سیدنا عبد اللہ بن سہل، حضرت سیدنا مالک بن عمرو، حضرت سیدنا طفیل بن عمرو دوسی، حضرت سیدنا یزید بن قیس، حضرت سیدنا عامر بن کبیر، حضرت سیدنا عبد اللہ بن مخرمہ، حضرت سیدنا سائب بن عثمان بن مظعون، حضرت سیدنا معن بن عدی، حضرت سیدنا ابو دجانہ سماک بن خرشہ رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ۔وغیرہ وغیرہ (سیرت سید الانبیاء، ص۶۰۹)
اسود عنسی کے خلاف جہاد
اسود عنسی کون تھا؟
اس کا پورا نام عَبْھَلَہبن کعب عنسی اور لقب ’’ذُوالْخِمَار‘‘ تھا۔ بعض نے ’’ذُوالْحِمَار‘‘بھی ذکر کیا ہے۔ خِمَار عربی میں چادر کو کہتے ہیں چونکہ یہ اپنے چہرے پر سیاہ اوڑھنی ڈال کر چھپائے رکھتا تھا اس لیے ’’ذُوالْخِمَار‘‘ کے لقب سے مشہور ہوااور’’ذُوالْحِمَار‘‘کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ اس کا ایک سیاہ گدھا تھا جسے اس نے سدھایا ہوا تھا کہ وہ گدھا اس کے سامنے سجدہ کیا کرتا تھا۔بہرحال اس کی چادر بھی سیاہ تھی اور گدھا بھی سیاہ تھا اس لیے اسے اَسْوَدْ یعنی ’’کالاسیاہ‘‘ کہا جاتاتھا۔ابتداء میں یہ کاہن تھا اور عجیب وغریب باتیں اس سے ظاہر ہوتی تھیں۔چرب زبانی سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتا تھا۔اس کے ساتھ دو ہمزاد شیطان تھے، جو اس کو زمانے کی خبریں لے کے بتاتے تھے۔ (سیر ت سید الانبیاء، ص۵۷۵، مدارج النبوت، ج۲، ص۴۰۷)
اسود عنسی کذاب کاظہور
۱۰ سن ہجری یمن میں اس کذاب کا ظہور ہوا، نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانہ میں ہی اس نے نبوت کا دعوی کردیا تھا۔اس کا خروج حجۃ الوداع کے بعد ہوا۔البتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پہلے ہی اس کے ظہور کی پیشن گوئی فرمادی تھی۔ (سیرت سیدالانبیاء، ص۵۷۵)