تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا حضرت سیدنا امیر حمزہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو شہید کیا تھا،بعد میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمسلمان ہوگئے تھے۔ جب سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضرہوئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں اپنے سامنے آنے سے منع فرمادیا، کہ ان کو دیکھ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اپنے چچا یاد آجایا کرتے تھے۔لیکن جب حضرت سیدنا وحشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مسیلمہ کو قتل کیا توبعد میں آپ فرمایا کرتے تھے کہ’’اگرمیں نے خیر الناس سیدنا امیر حمزہ کو شہید کیا ہے تو شر الناسمسیلمہ کذاب کو بھی قتل کیا ہے۔‘‘ (المعجم الکبیر، باب الحاء، الحسین بن علی بن ابی طالب،الحدیث: ۲۹۴۷، ج۳، ص۱۴۶،صحیح ابن حبان ،کتاب اخبارہ عن مناقب الصحابہ، ذکر البیان بان وحشیا۔۔۔الخ، الحدیث:۶۹۷۸، ج۶،الجزء:۹، ص۴۸۱ ملتقطا)
برادر فاروق اعظم کی شہادت
اس جنگ یمامہ میں کئی جید صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن بھی شہید ہوئے ان میں سے حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے سگے بھائی حضرت سیدنا زید بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبھی شامل ہیں، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے عمر میں بڑے اور اسلام لانے میں مقدم تھے۔اسی طرح خطیب الانصار حضرت سیدنا ثابت بن قیس بن شماس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سیدنا عباد بن بشر انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بھی جام شہادت نوش کیا۔
دیگرمختلف صحابۂ کرام کی شہادت
مسیلمہ کذاب کے لشکر سے بیس ہزار مشرکین اس جنگ میں مارے گئے۔ حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے لشکر سے ایک ہزار دوسو مسلمانوں کو شہادت نصیب ہوئی جن میں ماقبل مذکورصحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے علاوہ صحابۂ کرام کی ایک جماعت شامل تھی ، بعض کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
حضرت سیدنا ابو حذیفہ بن عتبہ، حضرت سیدنا ابوحذیفہ کے غلام حضرت سیدنا سالم، حضرت سیدنا شجاع بن وہب ،