کاروباری لوگ عموما گفتگو میں بہت محتاط ہوتے ہیں وہ کوئی بھی ایسی بات زبان سے نہیں نکالتے جوان کے تعلقات پرمنفی اثرات مرتب کرے۔نہ تو وہ کسی کے مذہب وعقیدے میں دخل دیتے ہیں اور نہ ہی کسی کے عمل وحرکت کے بارے میں کوئی بات کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ یہ لوگ مصلحت اور عافیت کوپسند کرتے ہیں تمام معاملات اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں مگراپنی کاروباری مجبوریوں کی وجہ سے چپ سادھ لیتے ہیں، کسی سے کچھ نہیں کہتے بلکہ اکثریت کے جذبات کی ترجمانی کرتے اور ان کی رائے کو صحیح قرار دیتے ہیں لیکن جناب صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی فطرت عام کاروباری لوگوں کی فطرت کے بالکل برعکس تھی، انہوں نےاسلام قبول کرتے ہی اسلام کافورا اظہار کردیا بلکہ اسلام کی تبلیغ واشاعت کواپنا اولین فریضہ سمجھ کراپنے دیگرتاجر بھائیوں کواسلام کے فوائد سے مطلع کرنا شروع کر دیا۔ چنانچہ جس دن اسلام لائے اسی دن حضرت سیدنا عثمان بن عفان، حضرت سیدنا طلحہ، حضرت سیدنا زبیر اور حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمکواسلام کی دعوت پیش کرنے کے بعد انہیں داخل اسلام کرلیااوردوسرے دن حضرت سیدنا عثمان بن مظعون ، حضرت سیدناابو عبیدہ بن جراح ، حضرت سیدنا عبدالرحمن بن عوف ،حضرت سیدنا ابو سلمہ اور حضرت سیدنا ارقم بن ابی الارقم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم کو بھی داخل اسلام کرلیا۔
(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ،حرف العین المھملۃ، ج۴،ص۳۷۷،تاریخ مدینۃ دمشق، ج۳۰،ص۴۹)
گویاآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے جیسے ہی اسلام قبول کیاآپ کودنیوی تجارت سے زیادہ اس دینی تجارت میں نفع نظرآیالہٰذا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے دنیوی تجارت کی طرح اس دینی تجارت میں بھی اپنے قریبی دوستوں کو شریک کرنا شروع کردیاتاکہ وہ بھی زیادہ سے زیادہ نفع کمائیں۔ واقعی ’’تاجر ہوتوآپ جیسا ہو‘‘۔
رہیں گے چومتے دہلیز بادشاہ تری
بہت بلند ہے صدیق بارگاہ تری
ادا شناسِ رسالت رہی نگاہ تری
ہے زلف یار سے دیرینہ رسم وراہ تری
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد