Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
38 - 691
 ذریعے سے اتنا رزق کمانا ضروری ہے جس کی بنا پر اسے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہ آئے۔چنانچہ دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۱۹۵صفحات پر مشتمل کتاب بہار شریعت جلددوم ص۶۰۹پر ہے: ’’اتنا کمانا فرض ہے جو اپنے لیے اور اہل و عیال کے لیے اور جن کا نفقہ اس کے ذمہ واجب ہے ان کے نفقہ کے لیے اور ادائے دَین (قرض)کے لیے کفایت کرسکے اس کے بعد اسے اختیار ہے کہ اتنے ہی پر بس کرے یا اپنے اوراہل و عیال کے لیے کچھ پس ماندہ رکھنے کی بھی سعی و کوشش کرے۔ ماں باپ محتاج و تنگدست ہوں تو فرض ہے کہ کما کر انھیں بقدرِ کفایت دے۔‘‘
(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الکراھیۃ،الباب الخامس عشر في الکسب،ج۵،ص۳۴۸ ، ۳۴۹)
کسب حلال کے متعلق تین احادیث مبارکہ
(1) ’’اُس کھانے سے بہتر کوئی کھانا نہیں جس کو کسی نے اپنے ہاتھوں سے کام کرکے حاصل کیا ہے اور بے شک   اللہ 
عَزَّ وَجَلَّ کے نبی حضرت داود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے ہاتھ سے کما کر کھاتے تھے۔‘‘
(صحیح البخاري،کتاب البیوع،باب کسب الرجل ۔۔۔الخ،الحدیث: ۲۰۷۲،ج۲،ص۱۱)
(2)  ’’حلال کمائی کی تلاش بھی فرائض کے بعد ایک فریضہ ہے۔‘‘
(شعب الایمان،باب في حقوق الاولاد ۔۔۔ الخ، الحدیث: ۸۷۴۱،  ج۶،  ص۴۲۰)
(3)’’تمام کمائیوں میں زیادہ پاکیزہ اُن تاجروں کی کمائی ہے کہ جب وہ بات کریں جھوٹ نہ بولیں اور جب اُن کے پاس امانت رکھی جائے خیانت نہ کریں اور جب وعدہ کریں اُس کا خلاف نہ کریں اور جب کسی چیز کو خریدیں تو اُس کی مذمت (برائی) نہ کریں اورجب اپنی چیزیں بیچیں تو اُن کی تعریف میں مبالغہ نہ کریں اور ان پر کسی کا آتا ہو تو دینے میںٹال مٹول نہ کریں اور جب ان کا کسی پر آتا ہو تو سختی نہ کریں۔‘‘  (شعب الایمان،باب في حفظ اللسان، الحدیث: ۴۸۵۴، ج۴، ص۲۲۱)
تاجرہوتوصدیق اکبر جیسا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ایک تاجر پیشہ اور کاروباری آدمی تھے،